اندور، 31 اگست: پرگتی شیل لیکھک سنگھ کے آئندہ 14ویں ریاستی اجلاس کی تیاریوں کے سلسلے میں ہندی، اردو اور سندھی ادب کے موضوع پر ایک فکری مذاکرے کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینئر ادیب عزیز عرفان نے کہا کہ پرگتی شیل لیکھک سنگھ کا قیام ادب کے میدان میں ایک بڑا انقلاب تھا؛ جب تک دنیا میں بھوک اور استحصال رہے گا، مظلوموں کے درد پر لکھی جانے والی ہر تحریر ترقی پسند ادب کہلائے گی۔ انہوں نے موجودہ دور کے بدلتے ہوئے استحصالی طریقوں سے خبردار کیا۔ پرگتی شیل لیکھک سنگھ کے قومی سکریٹریٹ کے رکن ونیت تیواری نے کہا کہ ترقی پسند مصنفین اور شعراء نے دنیا کو خوبصورت بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی سے قبل کے ہندوستان کو سمجھنے کے لیے پریم چند اور بعد کے ہندوستان کے لیے ہری شنکر پرسائی اور شری لال شکلا کے ساتھ اب راہی معصوم رضا کو بھی پڑھنا لازمی ہے، جن کا صد سالہ جشنِ پیدائش شروع ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زبانیں دلوں کو جوڑتی ہیں جبکہ سیاست دان زبان کے نام پر نفرت پھیلاتے ہیں۔
مذاکرے میں مسعود بیگ تشنہ نے کھنڈوہ، سرونج، برہانپور، جاورا، رتلام، جبل پور، گوالیار، اندور، بھوپال اور اجین سمیت مدھیہ پردیش کے مختلف شہروں کے شعراء کی ترقی پسند شاعری کا تفصیلی جائزہ پیش کیا، جبکہ چنی لال وادھوانی نے سندھی ادب میں شیخ ایاز کے کردار اور سندھی ادب سنگت کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جب تک مظلوموں کا درد محسوس نہ ہو، ترقی پسند شاعری ممکن نہیں۔ جاوید عالم نے نثری ادب میں امن و محبت کے فروغ پر زور دیا۔ اس موقع پر نرمل جین اور دیپا پانڈے نے کلام پیش کیا، جبکہ نظامت کے فرائض ساریکا شریواستو نے انجام دیے۔ نشست میں جنوادی لیکھک سنگھ کے سینئر ساتھی رجنی رمن شرما کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ شکریہ کی رسم ابھے نیما نے ادا کی، جبکہ سمیر خان، ابھے لودھی، ایم باسط، اروند پوروال، ہرنام سنگھ، نیہا دوبے، سرفراز نور اندوری اور محمد اقبال انصاری سمیت کئی اہل قلم شریک رہے۔