بھوپال:31؍اگست:وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ اورچھا کو سیاحت کے ایک شاندار مرکز کے طور پر ترقی دی جا رہی ہے۔ اورچھا کا رام راجا مندر ہمارے شاندار ماضی کی تاریخی اور ثقافتی دولت ہے۔ یہاں کے مندر اور محل اس دور کے ترقی یافتہ فنِ تعمیر کی براہِ راست مثالیں ہیں، جو ہمیں ہماری قدیم وراثت اور ثقافت سے جوڑے رکھتے ہیں۔یہ اس دور کی ترقی یافتہ ٹیکنالوجی اور فنِ تعمیر کی بھی شاندار مثالیں ہیں۔ پہلے ایئر کنڈیشنر نہیں ہوتے تھے، لیکن یہاں کی عمارتیں اس طرح بنائی گئی ہیں کہ وہ گرم موسم میں ٹھنڈک اور سردی میں گرمی کا احساس کراتی ہیں۔وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے آج اورچھا واقع تاریخی اور عقیدت کے اہم مرکز شری رام راجا لوک میں جاری تعمیراتی کاموں کا معائنہ کیا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے تعمیراتی کاموں کی پیش رفت کی معلومات لیتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ کاموں کو معیار کے ساتھ مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے معائنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ خیالات ظاہر کیے۔وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے زیرِ تعمیر رام راجا لوک احاطے میں مختلف اداروں کا معائنہ کرتے ہوئے ادارہ چلانے والوں سے گفتگو کی اور ان کے مسائل اور تجاویز سنیں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو موصولہ مسائل کے حل کے لیے ضروری کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔اس کے ساتھ ہی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے جْجھار سنگھ محل میں جاری تعمیر اور مرمت کے کاموں کا معائنہ کیا۔ انہوں نے جہاں گیر محل کا دورہ کیا اور یہاں کے تاریخی اور شاندار فنِ تعمیر کا معائنہ بھی کیا۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کو معائنے کے دوران آرکیٹیک کی جانب سے مندر احاطے میں موجود قدیم اور تاریخی ‘ساون-بھا دو’ ستونوں کے تحفظ اور ان کی تعمیراتی اہمیت کے بارے میں تفصیلی معلومات دی گئیں۔بتایا گیا کہ رام راجا لوک کی ساخت اور ترقیاتی کاموں کو شکل دیتے وقت مندر احاطے کے قدیم ورثے، خصوصاً ‘ساون-بھادو’ ستونوں کی اصل شکل اور تاریخی اہمیت کا خاص خیال رکھا جا رہا ہے۔بندیل کھنڈ کے مخصوص فنِ تعمیر کی علامت ان قدیم ستونوں کی ساخت اور طرزتعمیر اپنے زمانے کی ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کو ظاہر کرتا ہے۔ نئے تعمیراتی کاموں کے دوران ان قدیم ڈھانچوں کو کسی بھی قسم کا نقصان نہ پہنچے، اس کا خاص خیال رکھتے ہوئے ان کے آس پاس کے علاقے کو منظم، خوبصورت اور عقیدت مندوں کے لیے آسان بنایا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ہمارے شاندار بْندیلہ راجاؤں کا اورچھا بندیل کھنڈ کے دارالحکومت کے طور پر پہچانا جاتا تھا۔ یہاں کے قدیم محل اور عمارتیں ہماری خوشحال وراثت ہیں۔ اسے دوبارہ بحال کرنے کے لیے حکومت کام کر رہی ہے۔اس دور میں تعمیراتی کاموں میں جس قسم کی اشیاء کیااستعمال کیا جاتا تھا، اسی اشیاء سے عمارتوں کی مرمت اور بحالی کرائی جا رہی ہے۔ حکومت کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے شاندار ماضی کی علامت یہ عمارتیں اسی شکل میں نظر آئیں جس شکل میں وہ کئی سال پہلے تھیں۔ اس کے لیے ہمارے افسران کی قیادت اور رہنمائی میں ماہر کاریگر کام کر رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ شری مہاکال مہالوک کی تعمیر کے بعد اجین آنے والے عقیدت مندوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اجین کی معیشت میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔اسی طرز پر مدھیہ پردیش کے اہم تیرتھ مقامات جیسے اورچھا، چترکوٹ، دتیا، نل کھیڑا، پشوپتی ناتھ مندر، مندسور وغیرہ کی بھی جامع ترقی کی جا رہی ہے۔ اس سے مذہبی سیاحت کو فروغ ملے گا اور مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔بھگوان شری رام نے اپنے 14 سالہ بن باس میں ایک طویل مدت چترکوٹ میں گزاری تھی۔ بھگوان شری کرشن کی جہاں تعلیم بھی ہوئی، اجین کے ساندیپنی آشرم سمیت، بھگوان شری کرشن کی جہاں جہاں لیلائیں ہوئی ہیں، ان تمام مقامات کو تیرتھ کے طور پر ترقی دی جائے گی۔ہماری شاندار وراثت کو مذہبی اور ثقافتی جذبات کے مطابق آنے والی نسلوں سے جوڑنے اور انہیں اس ماضی سے واقف کرانے کے لیے مختلف سرگرمیاں چلائی جا رہی ہیں۔ انہیں محفوظ کرنا ریاستی حکومت کی ترجیح ہے۔اورچھا میں شاندار شری رام راجا لوک تعمیر کیا جا رہا ہے، جو آنے والے وقت میں ملک اور دنیا بھر کے عقیدت مندوں کے لیے ایک اہم تیرتھ مقام بنے گا۔
اس موقع پر مسٹرشیو پرکاش، سینئر ایم ایل اے مسٹرہیمنت کھنڈیلوال، راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ مسٹرمہیش کیوٹ، سابق وزیرِ داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا، نیواڑی کے ایم ایل اے مسٹرانیل جین، مسٹرراجیش پٹیریا، دیگر عوامی نمائندے، ساگر کے کمشنر مسٹرانیل سوچاری، آئی جی مسٹرمتھیلیش شکلا، ضلع کے سینئر انتظامی اور پولیس افسران موجود رہے۔









