اسلام آباد22اگست: خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے… بھارت نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ منسوخ کردیا۔ اس کے بعد پاکستانی حکومت نے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر واویلا مچایا، لیکن بھارت ٹس سے مس نہیں ہوا۔ اب پاکستان یہ سچ تسلیم کرنے پر مجبور ہوگیا ہے کہ ’’بھارت جنوبی ایشیا کا سب سے طاقتور ملک ہے‘‘۔ شہباز شریف حکومت میں منصوبہ بندی اور ترقی کے وزیر احسن اقبال نے بے بسی سے اعتراف کیا ہے کہ ’’بھارت جب چاہے پاکستان کی معیشت اور زراعت کو گھٹنوں کے بل لا سکتا ہے‘‘۔ پاکستانی وزیر احسن اقبال نے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے صاف صاف کہہ دیا کہ “بھارت جغرافیائی لحاظ سے برتر ہے، اور وہاں سے دریا پاکستان میں بہتے ہیں، اس کا بھرپور فائدہ اٹھا کر بھارت ضرورت پڑنے پر پانی کو پاکستان کے خلاف ایک طاقتور ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا ہے”۔ پاکستان کو اب اس واضح خطرے کا سامنا ہے کہ اگر اس نے اپنی مذموم سرگرمیوں اور دہشت گردی کو پناہ دینے سے باز نہ آیا تو بھارت اپنے دریاؤں کے بہاؤ کو کنٹرول کرکے پاکستان کو پانی کے ایک ایک قطرے کا پیاسا بنا سکتا ہے۔ اقبال نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پورے جنوبی ایشیا میں استحکام اور توازن برقرار رکھنے میں ہندوستان کا کردار سب سے اہم ہے، یعنی ہندوستان کے موقف کے بغیر خطے میں ایک پتا بھی نہیں ہل سکتا۔
انڈس واٹر ٹریٹی، جس پر 1960 میں دستخط ہوئے، کئی دہائیوں تک پاکستان کو یک طرفہ فوائد فراہم کرتا رہا۔ اس معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں یعنی دریائے سندھ، جہلم اور چناب کا زیادہ تر پانی پاکستان کو دیا گیا۔ تاہم بھارت نے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد یہ معاہدہ منسوخ کر دیا تھا۔ معاہدے میں تبدیلی کے حوالے سے پاکستان کو بھارت کے نوٹس نے اسلام آباد میں ہلچل مچا دی ہے۔ بھارت جہلم اور چناب جیسے دریاؤں پر رتلے اور کشن گنگا جیسے ہائیڈرو پاور پراجیکٹس پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔ بھارت اپنے حصے کے پانی کو مکمل طور پر استعمال کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کر رہا ہے، اس طرح پاکستان کو بہنے والے اضافی پانی کو روک رہا ہے۔پاکستان کی معیشت اس کے زرعی شعبے پر مبنی ہے، اور اس کا زرعی نظام مکمل طور پر دریائے سندھ کے نظام پر منحصر ہے۔ ایسی صورت حال میں اگر بھارت اپنے ڈیموں میں دریا کا پانی روکنے یا موڑنے کا حق استعمال کرتا ہے تو پاکستان کو کئی سنگین چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔