بھوپال:19؍اگست:وزیرخواتین و اطفال ترقیات محترمہ نرملہ بھوریا نے کہا ہے کہ بچوں کی نگہداشت کے اداروں سے نکلنے والے بچے اور کیئر لیورز صرف حالات کے شکار نہیں بلکہ اپنے مستقبل کے معمار ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ تحفظ کے نظام سے باہر آنے کے بعد کوئی بھی بچہ خود کو تنہا محسوس نہ کرے، بلکہ تعلیم، ہنر، روزگار، عزت اور خود انحصاری کے مواقع کے ساتھ معاشرے کے مرکزی دھارے میں اپنی شناخت قائم کرے۔ انہوں نے کہا کہ ’’جدوجہد چاہے کتنی ہی بڑی ہو، کامیابی اس سے بھی بڑی ہو سکتی ہے۔‘‘
وزیر محترمہ بھوریا نے آج بھوپال میں واقع ریاستی ہوٹل مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ میں مشن واتسلیہ کے تحت خواتین و اطفال ترقی محکمہ کی جانب سے کیٹالسٹس فار سوشل ایکشن (CSA) کے تعاون سے منعقد کی گئی بچوں کی نگہداشت کے اداروں کے بچوں اور کیئر لیورز کی ایک روزہ ریاستی سطح کی ورکشاپ سے خطاب کیا۔وزیر محترمہ بھوریا نے کہا کہ مدھیہ پردیش کے کیئر لیورز اپنی محنت اور صلاحیت سے نہ صرف ریاست بلکہ ملک اور بیرونِ ملک بھی اپنی شناخت بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنے بچوں کو فوجی وردی میں دیکھ کر فخر کا احساس ہوتا ہے۔ ان نوجوانوں کی کامیابیاں بتاتی ہیں کہ مواقع اور صحیح رہنمائی ملنے پر حالات کسی کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔
’’ملازمت حاصل کرنے والے نہیں، ملازمت دینے والے بنیں نوجوان‘‘
وزیر محترمہ بھوریا نے نوجوانوں سے متحد رہنے اور اپنے ساتھیوں کی مدد کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ جس نوجوان کو روزگار کا موقع ملے، وہ اپنے دیگر ساتھیوں کو بھی آگے بڑھانے میں تعاون کرے۔ ’’آپ کو روزگار ملے، یہ اچھی بات ہے، لیکن اس سے بھی بہتر یہ ہوگا کہ آپ خود دوسروں کو روزگار دینے کی پوزیشن میں پہنچیں۔‘‘وزیر محترمہ بھوریا نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی قیادت میں ریاستی حکومت نے وزیر اعلیٰ بال آشیرواد یوجنا کے ذریعے بچوں کی نگہداشت کے اداروں سے باہر آنے والے بچوں اور نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی سمت میں اہم پہل کی ہے۔









