بھوپال:19؍اگست:وزیرمملکت محترمہ کرشنا گور نے کہا ہے کہ این ایس ڈی سی اور مدھیہ پردیش حکومت کے درمیان ہوا یہ ایم او یو مدھیہ پردیش کے پسماندہ طبقے کے باصلاحیت نوجوانوں کو عالمی سطح پر مقام دلانے اور انہیں بین الاقوامی سطح پر خود کفیل بنانے کے ساتھ باوقار روزگار فراہم کرنے کی سمت میں ایک پْرعزم اور دور رس قدم ہے۔ یہ بات پسماندہ طبقات و اقلیتی بہبود کی ریاستی وزیر (آزادانہ چارج) محترمہ کرشنا گور نے مدھیہ پردیش حکومت اور نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (NSDC) کے درمیان دستخط شدہ ایم او یو کے حوالے سے کہی۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نوجوانوں کو صرف روایتی ہنر فراہم نہیں کر رہی بلکہ سوشل اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے مالیاتی انتظام کا یہ اختراعی تجربہ نہ صرف مالی شفافیت اور نتائج پر مبنی کام کے کلچر کو مضبوط کرے گا بلکہ ملک کی دیگر ریاستوں کے لیے بھی ایک قابلِ تقلید مثال پیش کرے گا۔ ہمارا مقصد ریاست کے ہر نوجوان کو خود کفیل بنا کر عالمی مسابقت میں بااختیار بنانا ہے۔ملک کے وزرائے ہنرمندی کی کولکاتا میں منعقدہ علاقائی کانفرنس میں دستخط کیے گئے اس اہم منصوبے کے تحت ریاست کے دیگر پسماندہ طبقات (OBC) کے 600 نوجوانوں کو سافٹ اسکلز، مخصوص پیشہ ورانہ مہارت اور متعلقہ ممالک کی زبانوں کی جامع تربیت فراہم کرکے جاپان (300 نوجوان) اور جرمنی (300 نوجوان) بھیجا جائے گا۔اس محکمہ جاتی منصوبے کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا مالی انتظام سوشل اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے کیا جائے گا، جو ریاست کی پہلی ’سوشل امپیکٹ بانڈ‘ (SIB) پر مبنی اختراعی پہل ہے۔منصوبے کے تحت مجموعی تربیتی فیس کا 35 فیصد حصہ سوشل اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے منظم کیا جائے گا، جبکہ 50 فیصد حصہ ریاستی حکومت اور باقی 15 فیصد رقم متعلقہ OBC مستفید فرد برداشت کرے گا۔مکمل طور پر نتائج پر مبنی (Outcome-Based) اس اسکیم میں ریاستی حکومت کی جانب سے NSDC کو 50 فیصد رقم صرف اسی صورت میں ادا کی جائے گی جب متعلقہ نوجوان کامیابی کے ساتھ بیرونِ ملک روزگار حاصل کر لے گا۔ بصورتِ دیگر ریاستی حکومت پر کسی قسم کا مالی بوجھ عائد نہیں ہوگا۔









