بھوپال:19؍اگست:وزیر تعمیرات عامہ مسٹر راکیش سنگھ نے کہا کہ اختراع اسی وقت بامعنی ثابت ہوتی ہے جب وہ لیبارٹری سے نکل کر حقیقی تعمیراتی مقام تک پہنچے اور زمینی سطح پر اس کے نتائج ثابت ہوں۔ نئی ٹیکنالوجی کو پہلے پائلٹ پروجیکٹس اور تجرباتی حصوں میں آزمایا جائے اور کامیاب نتائج حاصل ہونے کے بعد اسے وسیع پیمانے پر اختیار کیا جائے۔ سائنسی تحقیق صرف دستاویزات تک محدود نہ رہے بلکہ اس کا براہِ راست فائدہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور عام لوگوں تک پہنچنا چاہیے۔وزیرمسٹر سنگھ نے بدھ کے روز سی ایس آئی آر۔مرکزی سڑک تحقیقی ادارہ، نئی دہلی کی پلاٹینم جوبلی کے موقع پر سی ایس آئی آر۔اے ایم پی آر آئی، بھوپال میں منعقد ایک روزہ ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کیا۔ ورکشاپ کا موضوع ’’پائیدار بنیادی ڈھانچے کے لیے اختراعی مواد اور جدید کمپوزٹ‘‘ تھا۔ اس کا مشترکہ انعقاد سی ایس آئی آر۔سی آر آر آئی، نئی دہلی اور سی ایس آئی آر۔اے ایم پی آر آئی، بھوپال نے کیا۔
وزیر مسٹر سنگھ نے سڑک اور ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں 75 برس کی شاندار خدمات کے لیے سی ایس آئی آر۔سی آر آر آئی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم مسٹر نریندر مودی کی قیادت میں ملک کے بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں انقلابی تبدیلی آئی ہے۔ وزیراعظم کا وڑن ہے کہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی تیز رفتاری سے ہو، لیکن تعمیر پائیدار، معیاری، محفوظ اور طویل عرصے تک قائم رہنے والی بھی ہو۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی قیادت میں مدھیہ پردیش بھی جدید ٹیکنالوجی اور اختراعات کو اختیار کرتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی ٹریفک، بھاری گاڑیوں، محدود قدرتی وسائل اور بدلتی ہوئی آب و ہوا کے درمیان ہمارا مقصد صرف زیادہ سڑکیں بنانا نہیں بلکہ محفوظ، پائیدار اور ماحول دوست بنیادی ڈھانچہ تیار کرنا ہونا چاہیے۔ اس کے لیے سائنس دانوں اور انجینئروں کو مقامی وسائل پر مبنی کم لاگت والی دیسی ٹیکنالوجی تیار کرنا ہوگی۔ نئی ٹیکنالوجی معیاری ہونے کے ساتھ ساتھ عملی اور کفایتی بھی ہونی چاہیے۔ پرالی سمیت غیر مفید مواد کو بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں استعمال کرکے ماحولیاتی مسائل کو کارآمد وسائل میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
وزیرمسٹر سنگھ نے کہا کہ لیبارٹریوں میں اچھے نتائج دینے والی ٹیکنالوجی کئی مرتبہ زیادہ لاگت، مواد کی عدم دستیابی اور عملی دشواریوں کے باعث تعمیراتی مقام تک نہیں پہنچ پاتی۔ سائنسی اداروں، انجینئروں اور تعمیراتی ایجنسیوں کو مل کر ان رکاوٹوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ محدود وسائل میں زیادہ مضبوط اور طویل عرصے تک چلنے والی سڑکیں بنانا آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ تعمیرات عامہ صرف سڑکوں، عمارتوں اور پلوں کی تعمیر نہیں کرتا بلکہ ان کے ذریعے شہریوں کی زندگی کو آسان، محفوظ اور بہتر بناتا ہے۔ اسی سوچ کے تحت محکمہ نے ’’لوک نرمان سے لوک کلیان‘‘ یعنی ’’تعمیرات عامہ سے عوامی فلاح‘‘ کو اپنا نصب العین بنایا ہے۔
وزیرمسٹر سنگھ نے لوک پتھ ایپ-2 کی معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ شہری سڑک پر گڑھے یا نقصان کی جیو ٹیگ شدہ تصویر ایپ پر اپ لوڈ کر سکتے ہیں۔ شکایت کے ازالے کی مدت 7 دن سے کم کرکے 4 دن کر دی گئی ہے۔ یہ ایپ متبادل راستے، فاصلہ، ٹول ٹیکس، اسپتال اور دیگر سہولیات کی معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بلیک اسپاٹ سے تقریباً 500 میٹر پہلے گاڑی چلانے والے کو خبردار بھی کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سڑکوں کی تعمیر کو آبی تحفظ سے جوڑتے ہوئے سڑکوں کے کنارے مقررہ فاصلے پر ریچارج بور بنائے جائیں گے۔ بھاسکرآچاریہ ادارے کے تعاون سے ان کے لیے موزوں مقامات کا سائنسی طریقے سے تعین کیا جا رہا ہے۔ ہر ریچارج بور پر تقریباً 30 سے 35 ہزار روپے کی لاگت آئے گی۔سڑکوں کی تعمیر کے دوران نکلنے والی مٹی کا استعمال کرتے ہوئے ریاست میں اب تک تقریباً 700 سے زیادہ لوک کلیان سروور بنائے جا چکے ہیں۔ محکمہ 2 کروڑ روپے سے زیادہ لاگت والے تعمیراتی کاموں کو آبی تحفظ کے ڈھانچوں سے جوڑنے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ اسی سلسلے میں نئے پلوں کے ڈیزائن میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کا نظام بھی شامل کیا جائے گا، تاکہ بارش کا پانی ضائع ہونے کے بجائے زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر بنانے کے کام آ سکے۔ بنیادی ڈھانچے کی ترقی ماحول کے ساتھ ہم آہنگی قائم کرتے ہوئے کی جانی چاہیے۔
وزیرمسٹر سنگھ نے بتایا کہ سڑک، پل اور عمارتوں کے منصوبوں کی تکمیل کی مدت سائنسی بنیادوں پر مقرر کرنے کے لیے خصوصی سافٹ ویئر بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کی لمبائی، لاگت، مقام کے حالات، انسانی وسائل اور مشینری کی معلومات درج کرنے پر یہ سافٹ ویئر کام مکمل ہونے کی عملی مدت کا تعین کرے گا۔ انہوں نے سی ایس آئی آر۔سی آر آر آئی، سی ایس آئی آر۔اے ایم پی آر آئی، مدھیہ پردیش محکمہ تعمیرات عامہ، ایم پی آر ڈی سی، بھارتی ریلوے، تعلیمی اداروں اور صنعتی شعبے کے درمیان مضبوط تال میل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر ورکشاپ سے ٹھوس اور مثبت نتائج سامنے آنے چاہئیں۔ پیش کیے گئے خیالات اور ٹیکنالوجی کو مقررہ مدت کے اندر عملی منصوبہ بندی میں تبدیل کرکے ریاست اور ملک کے مفاد میں استعمال کیا جائے۔
ایم پی آر ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹرمسٹر بھارت یادو نے بتایا کہ محکمہ تعمیرات عامہ اور ایم پی آر ڈی سی کی جانب سے تقریباً 50 ہزار کروڑ روپے کے سڑکوں کے کام کیے جا رہے ہیں۔ نئی ٹیکنالوجی کو سائنسی جانچ اور پائلٹ تجربات میں کامیاب ہونے کے بعد ہی اختیار کیا جائے گا۔ سائنس دانوں کی تحقیق اور انجینئروں کے زمینی تجربے سے پائیدار، محفوظ اور کفایتی سڑکیں تیار کی جائیں گی۔
سی ایس آئی آر کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر این۔ کلیسلوِی نے آن لائن خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی ایس آئی آر کی 37 لیبارٹریاں باہمی تال میل کے ساتھ عوامی استعمال کی ٹیکنالوجی تیار کر رہی ہیں۔ سی ایس آئی آر۔سی آر آر آئی اور سی ایس آئی آر۔اے ایم پی آر آئی کی جانب سے تیار کی گئی اسٹیل سلیگ، فلائی ایش اور فضلے پر مبنی پائیدار سڑکوں کی ٹیکنالوجی مدھیہ پردیش کے بنیادی ڈھانچے کے لیے مفید ثابت ہوگی۔
ورکشاپ کے پہلے تکنیکی اجلاس’’ہائی وے بنیادی ڈھانچے کے لیے اختراعی تعمیراتی اور بحالی کی تکنیک‘‘ میں سوئل نیلنگ کے ساتھ باکس جیکنگ ٹیکنالوجی اور سڑک و ریلوے انڈر پاس کی تعمیر پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ہائی وے جیو اسٹرکچر کی بحالی اور زمینی سطح پر کیے گئے مطالعات بھی پیش کیے گئے۔دوسرے تکنیکی اجلاس’’پائیدار بنیادی ڈھانچے کے لیے مواد اور ری سائیکلنگ ٹیکنالوجی‘‘ میں ہائی وے کی تعمیر میں فضلہ مواد کے استعمال، پھیلاؤ والی مٹی کو مستحکم کرنے کے لیے بایو اسٹیمیولیٹڈ کیل سائٹ پریسی پی ٹیشن، نیز فل ڈیپتھ ریکلیمیشن کے اصول، عملی استعمال اور افادیت پر ماہرین نے اپنے خیالات پیش کیے۔
تیسرے تکنیکی اجلاس’’بنیادی ڈھانچے میں جدید مواد اور کمپوزٹ کے استعمال‘‘ میں فلائی ایش پر مبنی جیو پولیمر کنکریٹ، وسائل کی بچت والی جیو پولیمر کنکریٹ مکس ڈیزائن، قدرتی فائبر پر مبنی کمپوزٹ، پائیدار ڈامر سڑکوں کے لیے سسل فائبر سے مضبوطی اور پلوں کے سپر اسٹرکچر میں فائبر ری اِنفورسڈ پولیمر کمپوزٹ کے استعمال سے متعلق تکنیکی پیشکشیں دی گئیں۔ورکشاپ کے اختتامی اجلاس میں’’ہائی وے منصوبوں میں اختراعی مواد اور ٹیکنالوجی اختیار کرنے کی عملی حکمت عملی‘‘ کے موضوع پر پینل مباحثہ ہوا۔ اس میں نئی ٹیکنالوجی کو محکمہ تعمیرات عامہ کے منصوبوں میں مرحلہ وار اختیار کرنے، تجرباتی حصے تیار کرنے اور صنعتی و تحقیقی اداروں کے تعاون سے پائلٹ منصوبے تیار کرنے پر غور و خوض کیا گیا۔
ورکشاپ میں سی ایس آئی آر۔سی آر آر آئی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر چالوموری روی شیکھر، سی ایس آئی آر۔اے ایم پی آر آئی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر تھلّاڈا بھاسکر، ایم پی آر ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب بھارت یادو، انجینئر اِن چیف جناب آر۔ ایل۔ ورما سمیت سائنس دان، انجینئرز اور ریلوے و صنعتی شعبے کے نمائندے موجود تھے۔









