بھوپال 3اگست: وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ جدید زرعی ٹیکنالوجی ہی کسانوں کی خوشحالی کا نیا دروازہ ہے۔ کسان جتنا زیادہ نئی ٹیکنالوجی، جدید زرعی طریقوں اور حکومتی اسکیموں سے جڑیں گے، ان کی آمدنی اتنی ہی بڑھے گی اور زراعت اتنی ہی زیادہ منافع بخش بنے گی۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں باغبانی فصلوں کی پیداوار مسلسل بڑھ رہی ہے۔ باغبانی فصلوں کی ترقی اور توسیع میں بہترین کارکردگی پر مدھیہ پردیش کو ملک کا پہلا انعام ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری حکومت کے کسانوں کی زندگی بہتر بنانے کے عزم کا نتیجہ ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پیر کے روز وزیرِ اعلیٰ کی رہائش گاہ سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے بیتول میں منعقدہ بلرام کرشی مہوتسو سے خطاب کر رہے تھے۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ضلع بیتول کی قدرتی دولت، زرخیز زمین اور محنتی کسانوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جس سرزمین کو سورج پتری ماں تاپتی سمیت سات دریاؤں کی برکت حاصل ہو، وہاں کی زرخیزی اور زرعی پیداوار کا کوئی مقابلہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کسانوں کا اپنا پروگرام ہے اور حکومت کسانوں کی فلاح و بہبود اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے پوری طرح پْرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم زرعی شعبے میں ترقی کے نئے معیار قائم کر رہے ہیں اور جو کہتے ہیں، وہ کر کے دکھاتے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ بیتول نے مکئی کی پیداوار کے میدان میں نہ صرف ریاست بلکہ پورے ملک میں اپنی منفرد شناخت قائم کی ہے۔ یہاں کے کسان گیہوں، دھان، مکئی اور شری اَنّ جیسی فصلوں کی بہترین پیداوار کے ذریعے ریاست کی غذائی سلامتی کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج مدھیہ پردیش ملک کی **”فوڈ باسکٹ** کے طور پر ابھر رہا ہے تو اس میں بیتول کی زرخیز مٹی اور کسانوں کی محنت کا اہم کردار ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسانوں کی مشکلات کم کرنے اور ان کی خوشحالی بڑھانے کے مقصد سے ریاستی حکومت 15 جولائی سے 13 نومبر تک **بلرام کرشی مہوتسو** منعقد کر رہی ہے۔ اس دوران انتظامیہ کسانوں کے درمیان پہنچ کر انہیں جدید زرعی ٹیکنالوجی، نئی حکومتی اسکیموں اور سائنسی کاشتکاری کے بارے میں معلومات فراہم کر رہی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ اس مہوتسو سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، ماہرین سے تبادلہ? خیال کریں، نئی ٹیکنالوجی سیکھیں اور اسے اپنا کر اپنی آمدنی میں اضافہ کریں۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کسانوں کے مفاد میں حکومت کے فیصلوں کی تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ مونگ پیدا کرنے والے کسانوں کے مطالبے کے پیشِ نظر سرکاری خرید کے لیے اہل کسانوں کی حد 25 فیصد سے بڑھا کر 60 فیصد کر دی گئی ہے۔ حکومت کسانوں کی 60 فیصد مونگ خریدے گی۔ سلاٹ بکنگ کی آخری تاریخ 10 اگست جبکہ مونگ کی خریداری کی آخری تاریخ 20 اگست 2026 تک بڑھا دی گئی ہے۔ کسانوں کی سہولت کو ترجیح دیتے ہوئے کھاد کی تقسیم میں نافذ **ای۔ٹوکن** نظام کو بھی فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس سال امدادی قیمت کے ساتھ بونس دے کر گیہوں کی ریکارڈ خریداری کی گئی ہے۔ دھان پیدا کرنے والے کسانوں کو فی ہیکٹر چار ہزار روپے کی اضافی مالی امداد دی جا رہی ہے۔ ریاست میں پہلی بار **کودو-کٹکی** کی ریکارڈ خریداری کرتے ہوئے کسانوں کو فی کوئنٹل ایک ہزار روپے بونس کی ادائیگی بھی یقینی بنائی گئی ہے۔