بھوپال:02؍اگست:مدھیہ پردیش اردو اکادمی، سنسکرتی پریشد، محکمۂ ثقافت کے زیرِ اہتمام ضلع ادب گوشہ، برہانپور کے ذریعے ’’سلسلہ اور تلاشِ جوہر‘‘ کے تحت ادبی و شعری نشست کا انعقاد یکم اگست 2026ء کو رات 8:30 بجے انصار افتخار ہائر سیکنڈری اسکول، چندر کلاں، برہانپور میں ضلع کوآرڈینیٹر شعور آشنا کے تعاون سے کیا گیا۔
برہانپور میں منعقدہ ’’سلسلہ اور تلاشِ جوہر‘‘ کے لیے مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’’’سلسلہ اور تلاشِ جوہر‘ اردو اکادمی کی ایسی اہم مہم ہے، جس کا مقصد نئی ادبی صلاحیتوں کی تلاش، ان کی حوصلہ افزائی اور سینئر و نوجوان تخلیق کاروں کے درمیان تخلیقی مکالمہ قائم کرنا ہے۔ جہاں تک آج کے فکری اجلاس کے موضوع کا تعلق ہے، اردو ادب میں تانیثیت عورت کے تجربات، احساسات، جدوجہد اور اس کی شناخت کا ایک مستحکم ادبی دستاویز ہے، جسے سمجھنا اور نئی نسل تک پہنچانا وقت کی ضرورت ہے۔‘‘
برہانپور ضلع کے کوآرڈینیٹر شعور آشنا نے بتایا کہ پروگرام دو اجلاس پر مبنی تھا۔ پہلے اجلاس میں رات 8:30 بجے ’’تلاشِ جوہر‘‘ کا مقابلہ منعقد ہوا جس میں ضلع کے نئے تخلیق کاروں نے فی البدیہہ مقابلے میں حصہ لیا۔ حکم صاحبان کے طور پر برہانپور کے سینئر شعرائے کرام جمیل اصغر اور ریاست علی ریاست موجود تھے جنہوں نے نوجوان تخلیق کاروں کو شعر کہنے کے لیے دو طرحی مصرعے دیے۔ دیے گئے مصرعوں پر نوجوان تخلیق کاروں کی کہی گئی غزلوں اور ان کی پیشکش کی بنیاد پر شکیل اعجاز نے پہلا، رشید عنبر نے دوسرا، اور عمران شاہدی نے تیسرا مقام حاصل کیا۔
پہلا، دوسرا اور تیسرا مقام حاصل کرنے والے تینوں فاتحین کو اردو اکادمی کی طرف سے بالترتیب 3000/-، 2000/- اور 1000/- روپے کی انعامی رقم اور سرٹیفکیٹ دیے جائیں گے۔
دوسرے اجلاس میں رات 9:30 بجے ’’سلسلہ‘‘ کے تحت ادبی و شعری نشست کا انعقاد ہوا جس کی صدارت سینئر شاعر جمیل اصغر نے کی۔ جبکہ مہمانانِ ذی وقار کی حیثیت سے عارف انصاری علیگ، ایڈووکیٹ عبدالقادر شیخ اور واجد اقبال وغیرہ اسٹیج پر موجود رہے۔ اس موقع پر مقرر ڈاکٹر عارف انصاری نے ’’اردو شاعری اور ادب میں تانیثیت‘‘ موضوع پر خطاب پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ: ’’اردو ادب میں تانیثیت کے نظریے کے تحت صرف خواتین کے اپنے حقوق کی بات ہی نہیں کی جاتی، بلکہ یہ نظریہ معاشرے میں تعلیم، ادب اور دیگر خانگی، سیاسی و معاشی محاذوں پر مردوں کی طرح عورتوں کو بھی برابر کے حقوق دیے جانے کی وکالت کرتا ہے۔ اردو ادب اور شاعری میں تانیثیت کا یہ تصور ایک موثر ذریعہ بن کر ابھرا ہے، جہاں خاتون تخلیق کاروں نے اپنے قلم کو اظہار، شناخت اور سماجی احتجاج کا ہتھیار بنایا۔ بیسویں صدی میں کشور ناہید جیسی شاعرات نے اپنی بے باک شاعری اور نثر (جیسے ‘بری عورت کی کٹھا’) کے ذریعے مردانہ تسلط کی پابندیوں کو براہِ راست چیلنج کیا، وہیں پروین شاکر نے خواتین کے باطنی احساسات، خانگی و سماجی تجربات اور مزاحمتی آواز کو شاعری میں بخوبی پرویا۔ اس طرح اردو شاعری اور ادب میں تانیثیت نے خواتین کو محض ہمدردی کا پاتَر ماننے کے بجائے انہیں معاشرے میں ایک آزاد اور مساوی حقوق سے لیس انسان کے طور پر قائم کیا ہے۔‘‘
شعری نشست میں جن شاعروں نے اپنا کلام پیش کیا ان کے نام اور اشعار درج ذیل ہیں:
ان سے کہیے کہ ہواؤں کی بھی تقسیم کریں
گھر کے آنگن میں جو دیوار اٹھائے ہوئے ہیں
جمیل اصغر
ہم فکر کے ماروں کے چہرے ہی تعارف ہیں
آنکھیں ہیں جلن والی، ماتھے ہیں شکن والے
ولی شمیمی
مرے شعروں میں تھا میرا حوالہ
مری پہچان میری شاعری تھی
زاہد وارثی
کشکول ہاتھ میں لیے رکتا بھی کب تلک
بھوکا فقیر دوسرے در پر چلا گیا
تفضیل تابش
اردو اکادمی کی نوازش کا شکریہ
ہر شخص آج جس کی محبت میں آگیا
ریاست علی ریاست
وقت کم ہوتا ہے اوقات بڑی ہوتی ہے
یہ بڑے لوگوں کی ہر بات بڑی ہوتی ہے
ڈاکٹر فاروق راحیل
ہوتا نہ روشناس نئے تجربات سے
میں بھی زمیں کے ساتھ اگر گھومتا نہیں
تاج محمد تاج
دیکھیں گے کب تلک نہیں، دیکھیں گے وہ ہمیں
دانستہ ان کے پاس سے گزرا کریں گے ہم
نعیم نواز
وہاں پہ کون سنے گا صدا فقیروں کی
جہاں پہ آدمی سارے مشین ہو جائیں
جاوید رانا
اب سوپر فاسٹ نہیں ہے تری یادوں کا سفر
ریل گاڑی تو گزرتی ہے مگر آہستہ
طالب ہاشمی
ان کے علاوہ سندیپ شرما، سنتوش پرہار، راجیندر مشرا، الطاف انور اور ڈاکٹر سبھاش مانے نے بھی اپنا کلام پیش کیا۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض شعور آشنا نے انجام دیے۔ پروگرام کے اختتام پر انہوں نے تمام مہمانوں، تخلیق کاروں اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔