بھوپال، 10 ستمبر: روزنامہ ندیم بھوپال کے کالم نگار اور معروف عالمِ دین حضرت مولانا مفتی ممتاز عالم مظاہری کی والدۂ محترمہ کا انتقال ہو گیا ہے، جس پر روزنامہ ندیم کے تمام عملے، صحافیوں، دوست و احباب اور علمی و سماجی حلقوں نے گہرے رنج و صدمے کا اظہار کیا ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی سمیت متعدد شخصیات نے مفتی ممتاز عالم مظاہری اور جملہ پسماندگان سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماں کا سایۂ شفقت قدرت کی انمول نعمت ہے جس کے بچھڑنے کا خلا کبھی پُر نہیں ہو سکتا۔ روزنامہ ندیم کے جملہ اسٹاف اور احباب نے اس دکھ کی گھڑی میں سوگوار خاندان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے باری تعالیٰ کے حضور دعا کی ہے کہ وہ مرحومہ کی بال بال مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر کرتے ہوئے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور مفتی ممتاز عالم مظاہری سمیت تمام اہلِ خانہ کو اس جانکاہ صدمے کو برداشت کرنے کے لیے صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم سے نوازے۔
محترمہ کے انتقال پر ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے پسماندگان سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ اپنے تعزیتی بیان میں ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی نے کہا کہ ماں کا سایۂ شفقت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ہے، جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ماں محبت، شفقت، ایثار، دعا اور بے لوث قربانی کا وہ پیکر ہوتی ہے، جس کی جدائی کا خلا مدتوں محسوس ہوتا رہتا ہے۔ حضرت مفتی ممتاز عالم مظاہری سے اپنے دیرینہ، صدیقانہ اور برادرانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ محترمہ کے انتقال کی خبر میرے لیے محض ایک تعزیتی اطلاع نہیں، بلکہ ایک صدیقِ حمیم کی عظیم مصیبت میں شرکت کا باعث ہے، اور میں اس غم میں دل کی گہرائیوں سے شریک ہوں۔
انہوں نے کہا کہ اہلِ ایمان کے لیے مصائب و آلام کے مواقع پر اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر ایمان، صبر و رضا اور اجر و ثواب کی امید سب سے بڑا سہارا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى ’’حقیقی صبر تو پہلے صدمے کے وقت ہوتا ہے۔‘‘(صحیح البخاری، صحیح مسلم)
انہوں نے مزید کہا کہ مصیبت کے وقت مسلمان کو إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھنے کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی سکھائی ہوئی دعا اللّٰهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَاکا اہتمام کرنا چاہیے۔ والدین کے انتقال کے بعد بھی ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا، بلکہ ان کے لیے دعا و استغفار، صدقہ و خیرات اور دیگر نیک اعمال کے ذریعے اولاد ان کے لیے باعثِ اجر بن سکتی ہے۔
ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی نے دعا کی کہ اللہ رب العزت مرحومہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی تمام لغزشوں سے درگزر فرمائے، قبر کو نور و راحت سے معمور فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی تمام حسنات کو شرفِ قبول بخشے۔
انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا مفتی ممتاز عالم مظاہری دامت برکاتہم، ان کے تمام اہلِ خانہ، عزیز و اقارب اور متعلقین کو اس جانکاہ صدمے پر صبرِ جمیل، اجرِ عظیم اور سکونِ قلب عطا فرمائے، اور مرحومہ کے لیے ان کی دعاؤں اور نیک اعمال کو ذخیرۂ آخرت بنائے۔