بھوپال:02؍اگست:وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کی جانب سے ’’نشہ سے پاک نوجوان برائے ترقی یافتہ بھارت عزم مہم‘‘ کے ورچوئل افتتاحی پروگرام میں گورنر مسٹر منگو بھائی پٹیل نے اتوار کے روز بھوپال میں شرکت کی۔ پروگرام کا انعقاد برہما کماریز سکھ شانتی بھون ریٹریٹ سینٹر میں کیا گیا تھا۔ یہ پروگرام برہما کماری دیدی پرکاش منی جی کی 19ویں برسی کے موقع پر 10 کروڑ نشہ سے نجات کی حلف مہم کے تحت برہما کماری راج یوگ بھون بھوپال کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا۔مقامی پروگرام میں گورنر مسٹر منگو بھائی پٹیل نے کہا کہ نشہ سے پاک بھارت مہم کو کامیاب بنانے کے لیے ہر فرد، خاندان، برادری اور ہر طبقے کے تعاون کی ضرورت ہے۔ ہر شخص نشہ سے نجات کے عہد کو 365 دن یاد رکھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر 10 کروڑ افراد ایک ایک خاندان کو نشہ سے پاک کریں تو ملک کی 50 کروڑ آبادی نشہ سے پاک ہو جائے گی۔ ملک میں بڑا بدلاؤ آ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نشہ سے پاک، صحت مند، بااخلاق اور ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کی اس تاریخی عوامی تحریک کا آغاز ملک کے لیے نہایت حوصلہ افزا اور اہم موقع ہے۔ اس موقع پر بچوں کے بچپن کو نشے کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنا اور ہر خاندان کو اپنے گھر کو نشہ سے پاک بنانے کی ترغیب دینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مشن اسپندن کو عوامی تحریک کی شکل دینے کے لیے نشہ سے پاک بھارت مہم کا وسیع عزم اختیار کیا ہے۔
گورنر مسٹر پٹیل نے کہا کہ مہم کی حقیقی کامیابی اسی وقت ہوگی جب یہ عوامی رویے، طرزِ زندگی اور سماجی شعور کا مستقل حصہ بن جائے۔ انہوں نے مہم سے وابستہ تمام افراد سے اپیل کی کہ وہ سماج کے محروم طبقات، پسماندہ علاقوں اور دور دراز خطوں تک پہنچ کر یہ پیغام دیں کہ نشہ صرف فرد کی صحت ہی کو متاثر نہیں کرتا بلکہ خاندان، سماج، معیشت اور قوم کی ترقی پر بھی سنگین اثر ڈالتا ہے۔ انہوں نے راج یوگنی دادی پرکاش منی جی کی مقدس یاد میں وزیر اعظم کی عوامی تحریک سے جڑنے پر برہما کماری خاندان کی ستائش کی اور درخواست کی کہ وہ اجتماعی شراکت داری کے ذریعے نوجوانوں میں اقدار پر مبنی تعلیم، صحت مند طرزِ زندگی اور روحانی شعور کے فروغ میں رہنمائی اور قیادت کریں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ یہ مہم ترقی یافتہ بھارت @2047 کے قومی عزم کو حقیقت میں بدلنے کی سمت ایک مؤثر، وسیع اور انقلابی عوامی تحریک ثابت ہوگی۔
وزیرسماجی انصاف و معذور افراد بہبود، باغبانی اور فوڈ پروسیسنگ مسٹر نارائن سنگھ کشواہ نے کہا کہ موجودہ نسل پر نشے کے مضر اثرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جو سماج کے لیے نہایت تشویش کا موضوع ہے۔ انہوں نے کہا کہ نشہ نہ صرف فرد بلکہ خاندان، سماج اور قوم کی ترقی کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اس لیے نشہ سے پاک بھارت کا عزم عوامی تحریک کی شکل اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس سمت میں حکومت، انتظامیہ اور سماج کے ہر طبقے کی فعال شمولیت ضروری ہے۔ نوجوانوں کو نشے کے جال سے بچانے کے لیے برہما کماری ادارہ، بی کے گایتری پریوار اور دیگر سماجی تنظیمیں مسلسل بیداری مہم چلا رہی ہیں۔ انہوں نے پولیس محکمہ کی جانب سے گزشتہ سال چلائی گئی نشہ انسداد مہم کی بھی تعریف کی۔
انسانی حقوق کمیشن کے چیئرمین مسٹر اودھیش پرتاپ سنگھ نے کہا کہ نشہ سماجی اور اخلاقی اقدار کے زوال کی ایک بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے خاندان، سماج اور ثقافتی اقدار کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو نشے سے دور رکھنے کے لیے انہیں روحانیت سے جوڑ کر ان کی اندرونی تحریک کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاندان اور سماج کے مسلسل مکالمے ہی نوجوانوں کو نشے جیسی برائی سے بچا سکتے ہیں۔ بی کے ریکھا دیدی نے کہا کہ نشہ انسان کو جسمانی، ذہنی اور روحانی طور پر نقصان پہنچاتا ہے۔ سماج کو نشوں سے پاک کر کے روحانی بیداری کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پروگرام کے آغاز میں علاقائی ڈائریکٹر، سکھ شانتی بھون، بی کے نیتا دیدی نے استقبالیہ خطاب کیا جبکہ بی کے رام بھائی نے پروگرام کی نظامت کی۔ پروگرام کا آغاز چراغ روشن کر کے کیا گیا۔ بی کے رتنا دیدی نے نشہ سے پاک بھارت کا عہد دلوایا اور بی کے ہیما دیدی نے راج یوگ کی مشق کرا کے مثبت اور روحانی طرزِ زندگی اپنانے کا پیغام دیا۔









