نئی دہلی: سپریم کورٹ نے کمال مولا مسجد اور بھوج شالہ تنازعہ میں جمعہ کی نماز کے لیے متبادل مقام سے متعلق اپنے سابقہ عبوری حکم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم برادری جمعہ کو دوپہر ایک بجے سے تین بجے کے درمیان متنازعہ احاطے کے قریب مختص متبادل مقام پر نماز ادا کر سکے گی۔ عدالت نے اس دوران اس مقام کی بھی نشاندہی کی جہاں نماز ادا کرنے کی اجازت ہوگی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہن پر مشتمل بنچ مسلم فریق کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔ درخواست میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد جمعہ کی نماز کے لیے متبادل مقام کے تعین سے متعلق وضاحت طلب کی گئی تھی۔ ہائی کورٹ نے 15 مئی کو اپنے فیصلے میں متنازعہ بھوج شالہ احاطے کو مندر قرار دیا تھا، جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ سماعت کے دوران مسلم فریق کی جانب سے سینئر وکیل حذیفہ احمدی نے عدالت کو بتایا کہ ضلع کلکٹر کو متبادل زمین فراہم کرنے کے لیے درخواست دی گئی تھی، لیکن انتظامیہ نے جو مقام مختص کیا ہے وہ بھوج شالہ احاطے سے مناسب حد تک قریب نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ مقام سڑک کے راستے تقریباً 1.3 کلومیٹر جبکہ سیدھی لائن میں تقریباً 900 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ حذیفہ احمدی نے مؤقف اختیار کیا کہ متنازعہ احاطے سے متصل کئی ایسی اراضیات موجود ہیں جو نماز کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں اور وہ تمام وقف املاک ہیں۔ انہوں نے عدالت کے سامنے نقشہ پیش کرتے ہوئے چار ممکنہ مقامات کی نشاندہی کی، جن میں درگاہ سے متصل زمین بھی شامل تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے کوئی بھی مقام سپریم کورٹ کے اس حکم کے مطابق ہوگا جس میں متنازعہ احاطے کے ’قریب‘ متبادل جگہ فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
انہوں نے ضلع انتظامیہ کے اس مؤقف پر بھی اعتراض کیا جس میں امن و امان کی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے متنازعہ احاطے سے متصل زمین دینے سے انکار کیا گیا تھا۔ مسلم فریق کا کہنا تھا کہ صرف قانون و انتظام کے خدشات کی بنیاد پر قریب ترین مقام نہ دینا مناسب نہیں۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے متنازعہ احاطے میں سابقہ انتظام بحال کرنے سے انکار کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ جمعہ کی نماز کے لیے بھوج شالہ کے قریب متبادل مقام فراہم کیا جائے۔ عدالت کے تازہ حکم میں اسی ہدایت کی مزید وضاحت کی گئی ہے تاکہ نماز کی ادائیگی کے انتظامات میں کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔









