نئی دہلی 28جولائی: آج کل ’ڈیجیٹل اریسٹ اسکیم‘ سے منسلک معاملے ملک بھرمیں بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس کو لے کر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا ہے۔ سی جے آئی سوریہ کانت نے کہا کہ ہم معاملے میں کل تک ہدایات جاری کریں گے۔ ایمیکس کیوری نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ یہ معاملہ صرف واٹس ایپ تک محدود نہیں ہے بلکہ تمام چیٹ ایپس پر عائد ہوتا ہے۔ اگر ان پلیٹ فارمز کا استعمال فراڈ کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے تو ایک مقررہ وقت کے بعد ’کِل سوئچ‘ (کنکشن کاٹنے کی سہولت) ہونا چاہیے۔ ایمیکس کیوری نے کہا کہ ’’یہ وقت ایک یا 2 گھنٹے کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ جیسا کہ واٹس ایپ کا اے آئی تجویز کر رہا ہے، ہماری تجویز ایسی نہیں ہے۔ تجویز یہ ہے کہ صحیح وقت کی حد طے کرنے کے لیے اے آئی کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پہلا مرحلہ کال کے دوران پاپ-اپ وارننگ ہو سکتا ہے، جو صارف کو باخبر کرے کہ وہ کسی فراڈ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ دوسرا مرحلہ اصل ’کِل سوئچ‘ ہو سکتا ہے، جو کال کو کاٹ دے تاکہ ممکنہ متاثرہ شخص کو رکنے، صورتحال کو سمجھنے اور دوسروں کو مداخلت کرنے کا موقع مل سکے۔‘‘ اس دوران سپریم کورٹ نے ’ڈیجیٹل اریسٹ‘ کے لیے قانون میں ایک الگ تعریف مقرر کرنے کی تجویز دی، تاکہ اسے ایک علیحدہ جرم کے طور پر قانونی حیثیت دی جا سکے۔ سی جے آئی سوریہ کانت نے پوچھا کہ کیا کوئی اعلیٰ سطح کی ایجنسی اس معاملے کو نہیں دیکھ سکتی؟ دوسری بات یہ ہے کہ کیا آپ کو مجرمانہ قوانین میں ڈیجیٹل اریسٹ کے معاملات کو باضابطہ طور پر واضح کرنے کی ضرورت ہے؟ اس میں جبراً وصولی اور لوٹ جیسی باتیں شامل ہیں۔ کیا آپ کو اسے سنگین نتائج والے ایک الگ جرم کے طور پر متعین کرنے کی ضرورت ہے؟ ساتھ ہی ایسا التزام بھی ہو کہ جب کسی ملزم کے خلاف کچھ پایا جائے تو اس کی جائیداد ضبط کر لی جائے۔ اس معاملے پر بات کرتے ہوئے جسٹس باغچی نے کہا کہ اب ہمارے پاس ’ڈیپ فیک‘ ہے، جس کا استعمال دھوکہ دہی اور کسی اور کی شکل اختیار کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ آپ موجودہ قوانین کے ساتھ لڑتے تو ہیں، لیکن آپ کو ان میں بہتری لانے یا تبدیلی کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت ہم کسی جرم کی تعریف نہیں کر سکتے۔