گجرات: 27/ جولائی ( پریس ریلیز) یہ شعر 20 جولائی 2026 کو اسکول آف لینگویجز، گجرات یونیورسٹی، احمد آباد میں منعقد ہونے والے اس تاریخی علمی موقع کی بہترین ترجمانی کرتا ہے، جہاں محققہ شیخ حسینہ علی محمد نے اپنے تحقیقی مقالے مظہر الحق علوی: حیات اور ادبی خدمات” کا کامیاب اوپن وائوا مکمل کیا۔
بیرونی ممتحن پروفیسر ڈاکٹر ساجد علی قادری، ایسوسی ایٹ پروفیسر، شعبۂ اردو،ایس۔پی۔ڈی۔ایم۔ کالج، شیرپور، ضلع دھولے، (مہاراشٹر) نے مقالے کے علمی معیار، تحقیقی گہرائی اور محققہ کے مدلل و اطمینان بخش جوابات پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پی ایچ ڈی کی سند عطا کرنے کی سفارش کی، ساتھ ہی ضروری ترامیم کے بعد اس تحقیقی مقالے کو کتابی صورت میں شائع (Publication) کرنے کی بھی سفارش پیش کی۔
ڈاکٹر ناظمہ انصاری، ایسوسی ایٹ پروفیسر، گجرات آرٹس اینڈ سائنس کالج، کی علمی نگرانی میں اردو تحقیق کا یہ ایک اور درخشاں سنگِ میل ثابت ہوا۔ 6, اپریل 2026 کو دو تحقیقی مقالات کی کامیاب تکمیل کے بعد یہ تیسری تاریخ ساز پی ایچ ڈی ہے، جس نے گجرات یونیورسٹی کی علمی روایت میں ایک اور روشن باب کا اضافہ کیا ہے۔
یہ کامیابی صرف ایک تحقیقی مقالے کی تکمیل نہیں بلکہ گجرات کی اس عظیم علمی و ادبی روایت کا احیاء بھی ہے، جس کی بنیاد حضرت شاہ وجیہ الدین علویؒ کی خانقاہ سے مضبوط ہوئی۔ اسی سرزمین نے ولی دکنیؔ، وارث حسین علوی، محمد علوی اور مظہر الحق علوی جیسی عظیم شخصیات کو جنم دیا، جنہوں نے اردو زبان و ادب کو اپنی شاعری، تنقید، تحقیق اور ترجمہ نگاری سے نئی جہتیں عطا کیں۔ ایک طویل خاموشی کے بعد گجرات یونیورسٹی نے اس روایت کو ازسرِنو زندہ کرتے ہوئے اردو تحقیق کی تاریخ میں ایک نئی مثال قائم کی ہے۔
تقریب کا آغاز اسکول آف لینگویجز، گجرات یونیورسٹی کی ڈائریکٹر پروفیسر نوتن کوٹک کے افتتاحی کلمات سے ہوا۔ انہوں نے محققہ، نگرانِ تحقیق اور شعبۂ اردو کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے اس تحقیقی کام کو گجرات کی ادبی تاریخ کا ایک اہم اضافہ قرار دیا اور اپنی نیک تمناؤں اور دعاؤں سے نوازا۔
اس موقع پر پروفیسر محی الدین بومبےوالا، ڈائریکٹر پیر محمد شاہ لائبریری نے اپنے صدارتی خطاب میں وارث حسین علوی، محمد علوی اور مظہر الحق علوی کی علمی، ادبی اور تحقیقی خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے ان اکابر اہلِ قلم کے ساتھ اپنی معاصرت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات اردو ادب کا ایسا قیمتی سرمایہ ہیں، جنہیں نئی نسل تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اردو اکادمی، گجرات کے رکن زین العابدین انصاری نے اپنے تاثرات میں اس تحقیقی کام کو گجرات کی ادبی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی تحقیقات نہ صرف گجرات کے علمی و ادبی ورثے کو محفوظ کرتی ہیں بلکہ نئی نسل کو اپنی تہذیبی اور ادبی شناخت سے بھی جوڑتی ہیں۔
معروف سماجی رہنما محترمہ یاسمین خان نے اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گجرات کی علمی و ادبی شخصیات پر ہونے والی ایسی معیاری تحقیقات اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں، جبکہ خواتین کی اعلیٰ تعلیم اور تحقیق میں نمایاں کامیابیاں معاشرے کے لیے باعثِ افتخار اور آنے والی نسلوں کے لیے حوصلہ افزا مثال ہیں۔
خانقاہ کے نمائندہ صوفی عرفان قادری صاحب نے خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے مظہر الحق علوی کے خانوادے کی علمی و ادبی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنی نیک تمناؤں اور دعاؤں کا اظہار کیا اور اس تحقیقی کامیابی کو حضرت شاہ وجیہ الدین علویؒ کی علمی و روحانی روایت کے تسلسل کا ایک خوش آئند اور تاریخ ساز قدم قرار دیا۔
تقریب میں اساتذہ، محققین، طلبہ، اہلِ علم اور ادب دوست شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ حاضرین نے اس تاریخی کامیابی پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ گجرات کی عظیم علمی و ادبی شخصیات پر اسی معیار کی تحقیقی کاوشیں آئندہ بھی جاری رہیں گی ۔
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں