بھوپال:25؍جولائی:مدھیہ پردیش ملک میں نامیاتی کاشتکاری میں 27 فیصد سے زیادہ حصہ داری کے ساتھ پہلے مقام پر ہے۔ قومی قدرتی کاشتکاری مشن کے تحت 1513 کلسٹروں میں ایک لاکھ 89 ہزار کسانوں کو شامل کیا گیا ہے۔ قدرتی کاشتکاری کرنے والے کسانوں کے لیے دیسی گائے پالنے پر ماہانہ 900 روپے کی امداد کا انتظام ہے۔
آج کھرگون میں منعقدہ بلرام کرشی مہوتسو میں وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کسانوں سے گفتگو کی۔ کسانوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کے زراعت کو فروغ دینے کے منصوبوں سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ زراعت کی ترقی بھی ضروری ہے۔کئی برسوں سے نامیاتی کاشتکاری کرتے ہوئے مہارت حاصل کرنے والے اویناش دانگی بتاتے ہیں کہ ان کی نامیاتی مصنوعات ملک کی 13 ریاستوں میں سپلائی کی جا رہی ہیں۔ وہ مصالحہ جاتی فصلوں میں ہلدی، دھنیا اور مرچ کی کاشت کرتے ہیں۔اویناش دانگی کے پاس 54 ایکڑ زرعی زمین ہے۔ وہ پوری زمین پر نامیاتی کاشتکاری کرتے ہیں۔ ان کے فارم پر تقریباً 40 مویشی ہیں۔ آٹھ افراد پر مشتمل پورا خاندان کھیتی باڑی میں مصروف ہے۔
دانگی کا کہنا ہے کہ حکومت نے قدرتی کاشتکاری کرنے والے چھوٹے کسانوں کی بھرپور مدد کی ہے۔ حکومت کھاد پر سبسڈی دیتی ہے۔ نامیاتی کاشتکاری کرنے والے کسان ان کھادوں کا استعمال نہیں کرتے، اس لیے انہیں یہ سبسڈی کی رقم فطری طور پر ملنی چاہیے۔سفید موسلی کی کاشت کرنے والے مسٹر انل ورما کہتے ہیں کہ حکومت نے ہماری بھرپور مدد کی ہے۔ ریاستی حکومت کی زرعی پالیسیوں نے ہمارا حوصلہ بڑھایا ہے۔ اسی کاشتکاری کی بدولت میں نے اپنے بیٹے پریتیش کو امریکہ تعلیم کے لیے بھیجا۔ وہ اوہائیو یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس اور مصنوعی ذہانت میں ماسٹرز کر رہے ہیں اور اسی کالج میں تدریس بھی شروع کر دی ہے۔ وہ کسانوں کے مسائل کو سمجھنے میں بھی مدد کرتے ہیں۔
ریاست میں جاری بلرام کرشی مہوتسو کے تحت آج کھرگون میں منعقدہ پروگرام میں وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے آن لائن کسانوں سے گفتگو کی اور ان کی ستائش کی۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو کی سادگی سے کسان بھائی بہت متاثر ہوئے۔مسٹر انل بتاتے ہیں کہ وہ سفید موسلی کے علاوہ پپیتا، پیاز اور سویا بین کی فصل بھی کاشت کرتے ہیں۔ ان کے پاس دو کنویں اور ایک ٹیوب ویل ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اعلیٰ معیار کی سفید موسلی کی بازار میں بہت زیادہ مانگ ہے۔ اس علاقے میں تقریباً 1500 ایکڑ رقبے پر سفید موسلی کی کاشت ہو رہی ہے، جس میں تقریباً ایک ہزار کسان مصروف ہیں۔
ایک سال میں 5 سے 7 لاکھ روپے تک منافع ہو جاتا ہے۔ پہلے موسلی کے چھلکے ہاتھ سے اتارے جاتے تھے، جس کے لیے زیادہ مزدور درکار ہوتے تھے۔ چھلکے اتارنے والی مشین پر مرکزی حکومت سے 35 فیصد سبسڈی ملی، جس کے بعد اب 50 سے 60 کسان یہ مشین خرید چکے ہیں۔