اٹلانٹا،:16؍جولائی:دفاعی چیمپئن ارجنٹینا مسلسل دوسری بار فٹبال ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچ گیا۔ لیونل میسی کی ٹیم نے بدھ کی شب دوسرے سیمی فائنل میں انگلینڈ کو 2-1 سے شکست دے دی۔ ارجنٹینا کی ٹیم 85ویں منٹ تک 0-1 سے پیچھے تھی، لیکن آخری 7 منٹ میں دو گول کرکے شاندار واپسی کی اور کامیابی حاصل کر لی۔ اب فائنل میں اس کا مقابلہ 19 جولائی کو اسپین سے ہوگا۔اٹلانٹا میں انگلینڈ کے لیے 55ویں منٹ میں انتھونی گورڈن نے گول کرکے اپنی ٹیم کو برتری دلائی، جس کے بعد لگ رہا تھا کہ انگلینڈ فائنل میں پہنچ جائے گا۔ تاہم لیونل میسی کی ٹیم نے اختتامی لمحات میں میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔ میسی کے پاس پر اینزو فرنانڈیز نے تقریباً 25 گز کی دوری سے شاندار گول کرکے اسکور 1-1 سے برابر کر دیا۔ اس کے بعد انجری ٹائم کے دوسرے منٹ میں میسی کے عمدہ کراس پر متبادل کھلاڑی لاوتارو مارٹینیز نے ہیڈر کے ذریعے گول کرکے ارجنٹینا کو 2-1 سے فتح دلا دی۔فتح کے بعد ارجنٹینا کے کھلاڑیوں نے میدان میں “Las Malvinas son Argentinas(فاک لینڈ/مالویناس ارجنٹینا کے ہیں) لکھا ہوا بینر لہرایا، جس پر تنازع کھڑا ہوگیا اور دونوں ممالک کے شائقین کے درمیان تلخ کلامی اور جھڑپ کی اطلاعات سامنے آئیں۔میچ کے دوران بھی ارجنٹینا کے متعدد شائقین “فاک لینڈ/مالویناس ارجنٹینا کے ہیں” لکھے ہوئے بینرز اٹھائے ہوئے نظر آئے۔
فاک لینڈ (مالویناس) جنوبی بحرِ اوقیانوس میں واقع جزائر ہیں، جن پر ارجنٹینا اور برطانیہ دونوں اپنا دعویٰ کرتے ہیں۔ 2 اپریل 1982 کو ارجنٹینا نے ان جزائر پر قبضہ کر لیا تھا، تاہم 74 دن تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد برطانیہ نے دوبارہ ان پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا۔ ارجنٹینا کا مؤقف ہے کہ 1816 میں اسپین سے آزادی حاصل کرنے کے بعد فاک لینڈ اس کا حصہ تھے۔دریں اثناء ارجنٹینا کے کپتان لیونل میسی نے بدھ کے روز انگلینڈ کے خلاف ورلڈ کپ سیمی فائنل میں حاصل کی گئی فتح اپنے شائقین کے نام کرتے ہوئے کہا کہ پرانی حریف ٹیم کے خلاف کامیابی نے موجودہ عالمی چیمپئن کے لیے خاص اہمیت اختیار کر لی ہے۔میچ کے بعد میسی نے کہا، “اگرچہ یہ صرف ایک میچ تھا، لیکن ہم نے کچھ ایسے جذباتی لمحات محسوس کیے جنہیں الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ ہمارے شائقین اس کامیابی کے بے حد خواہش مند تھے، کیونکہ سیمی فائنل میں انگلینڈ کو شکست دے کر ایک اور ورلڈ کپ فائنل میں داخلہ حاصل کرنا ہمارے لیے بہت معنی رکھتا ہے۔
میچ میں انگلینڈ کو ابتدا میں انتھونی گورڈن نے برتری دلائی، تاہم 85ویں منٹ میں اینزو فرنانڈیز نے اسکور برابر کر دیا۔ اس کے سات منٹ بعد لاوتارو مارٹینیز نے فیصلہ کن گول کرکے ارجنٹینا کو اتوار کو اسپین کے خلاف ہونے والے فائنل میں پہنچا دیا۔دونوں گولوں میں اسسٹ کرنے والے میسی نے کہا کہ ٹیم کا اجتماعی جذبہ ہی واپسی کی اصل وجہ بنا۔
انہوں نے کہا، “یہ ٹیم کبھی ہار نہیں مانتی۔ ہم جیت کے عزم کے ساتھ میدان میں اترے تھے۔ ہم نے انہیں ان کے ہی حصے میں محدود رکھا اور ثابت کیا کہ ہم اضافی وقت کے بغیر بھی میچ جیت سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا، “کوئی بھی ارجنٹینی یہ میچ ہارنا نہیں چاہتا تھا۔ پورے ورلڈ کپ میں ہمارا سفر ناقابلِ یقین رہا ہے اور انگلینڈ کے خلاف اس سیمی فائنل کی اہمیت سب سے الگ تھی۔دوسری جانب متبادل کھلاڑی کے طور پر میدان میں اترنے کے صرف 11 منٹ بعد فاتحانہ گول کرنے والے لاوتارو مارٹینیز اپنی خوشی پر قابو نہ رکھ سکے۔28 سالہ فارورڈ نے کہا، اس وقت بولنا بہت مشکل ہے۔ میں نے میدان میں ہی بہت آنسو بہائے ہیں۔ ہم نے جو کچھ حاصل کیا ہے وہ ناقابلِ یقین ہے۔ ہم مسلسل آگے بڑھتے رہے اور یہی ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے۔
انہوں نے کہا، “پہلا ہاف بہت مشکل تھا، انگلینڈ نے ہم پر زبردست دباؤ ڈالا۔ دوسرے ہاف میں ان کے گول کے بعد وہ دفاعی انداز اختیار کر گئے، جس سے ہمیں گیند پر زیادہ کنٹرول ملا اور ہم نے کھیل کو بہتر انداز میں سنبھال لیا۔مارٹینیز نے ارجنٹینا کے شائقین کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی بھرپور حمایت نے ٹیم کے حوصلے بلند کیے۔
انہوں نے کہا، شائقین کی بھرپور حوصلہ افزائی نے ہمارے لیے سب کچھ آسان بنا دیا۔ ہم اسٹاپیج ٹائم میں دوسرا گول کرنے میں کامیاب ہوئے اور اس کے بعد ہر طرف خوشی کا ماحول تھا۔انٹر میلان کے اسٹرائیکر نے اسپین کے خلاف فائنل کو سخت چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا، “اسپین ایک مضبوط اور بہترین کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم ہے۔ اب ہمیں آرام کرنا ہوگا، اپنی توانائی بحال کرنی ہوگی اور فائنل کی بہترین تیاری کرنی ہوگی۔ تاہم اس کامیابی کا لطف بھی اٹھانا چاہتے ہیں، کیونکہ مسلسل دوسری بار ورلڈ کپ فائنل میں داخلہ حاصل کرنا آسان کام نہیں۔









