دہرادون: اتراکھنڈ میں ووٹر فہرست کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کے پہلے مرحلے میں حیران کن بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ ریاست بھر میں 19 لاکھ 4 ہزار سے زائد اندراجات میں خامیاں پائی گئی ہیں، جن میں تقریباً دو لاکھ ایسے ووٹر شامل ہیں جن کے والدین کی عمر ان سے صرف 15 برس یا اس سے بھی کم زیادہ درج کی گئی ہے۔ اسی طرح 92 ہزار سے زائد ووٹروں کے دادا دادی، نانا نانی کی عمریں بھی غیر معمولی طور پر کم درج پائی گئی ہیں۔ انتخابی حکام کے مطابق ایک لاکھ 99 ہزار 121 ووٹروں کے معاملے میں والدین اور اولاد کی عمروں کے درمیان 15 برس یا اس سے کم کا فرق ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس بے ضابطگی نے ووٹر فہرست میں موجود خاندانی تفصیلات کے اندراج پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ دوسری جانب ایک لاکھ 9 ہزار 547 ووٹروں کے والدین کی عمر ان سے 50 برس سے زائد زیادہ درج پائی گئی ہے، جو ریکارڈ کی درستگی کے حوالے سے تشویش کا باعث ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 92 ہزار 114 ایسے ووٹر بھی سامنے آئے ہیں جن کے دادا دادی یا نانا نانی کی عمر اور ان کی اپنی عمر کے درمیان 40 برس سے بھی کم کا فرق درج کیا گیا ہے۔ انتخابی حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ حقیقی خاندانی عمروں کے بجائے ووٹر فہرست میں موجود اندراجی خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ خصوصی گہری نظر ثانی کے دوران دو لاکھ 39 ہزار 566 ایسے معاملات بھی سامنے آئے ہیں جن میں ایک ہی خاندان کے دو بچوں کے درمیان پیدائش کا وقفہ 9 ماہ سے کم درج کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ متعدد ووٹروں کے ناموں اور ان کے رشتہ داروں کے ناموں کے املا میں بھی سنگین غلطیاں پائی گئی ہیں۔ بعض اسمبلی حلقوں میں ووٹروں کے ناموں میں تقریباً نصف اندراجات میں خامیاں درج کی گئی ہیں۔









