پٹنہ 15جولائی:لوک نایک جے پرکاش نارائن کے نام پر قائم بہار کی واحد ’جے پرکاش یونیورسٹی‘ (جے پی یو) کا امتحان سسٹم سرخیوں میں ہے۔ معاملہ یونیورسٹی کے ڈیجیٹل امتحان سسٹم سے متعلق ہے، جہاں ایک طالب علم کی تیسرے سمسٹر کی مارک شیٹ امتحان ہونے سے پہلے ہی ’ڈیجی لاکر‘ پر دستیاب ہو گئی۔ اس واقعے نے طلبا، والدین اور اساتذہ کے درمیان فکر پیدا کر دی ہے۔ یہ معاملہ گنگا سنگھ کالج، چھپرہ کے بی اے تیسرے سمسٹر (تعلیمی سیشن 28-2024) کے طالب علم کنچن کمار سے متعلق ہے۔ منگل کے روز وہ تیسرے سمسٹر کے امتحان کا آن لائن فارم بھرنے کے لیے کالج پہنچا۔ دستاویزات کی جانچ کے دوران جب اس نے ڈیجی لاکر کھولا تو وہاں اس کے نام سے’بیچلر آف آرٹس، سیمسٹر 3، اپریل 2025 امتحان (سیشن 28-2024‘ کی مارک شیٹ پہلے سے موجود تھی۔ سب سے حیرت انگیز بات یہ تھی کہ مارک شیٹ میں طالب علم کا نام، رول نمبر، رجسٹریشن نمبر اور کالج کا نام درست درج تھا۔ یہی نہیں، نتیجے میں اسے ’پروموٹ‘ بھی قرار دیا گیا تھا۔ دوسری جانب یونیورسٹی نے اسی طالب علم کا تیسرے سمسٹر کا امتحان فارم بغیر کسی اعتراض کے قبول بھی کر لیا ہے اور مقررہ امتحان فیس بھی وصول کر لی ہے۔ اب طالب علم الجھن میں ہے کہ وہ باقاعدہ امیدوار کے طور پر امتحان دے یا پھر ڈیجی لاکر پر موجود مارک شیٹ کو ہی آفیشیل ریزلٹ تصور کرے۔ متاثرہ طالب علم کا کہنا ہے کہ ڈیجی لاکر مرکزی حکومت کا سرکاری ڈیجیٹل دستاویزاتی پلیٹ فارم ہے۔ ایسے میں اگر وہاں غلط مارک شیٹ اپلوڈ ہوتی ہے تو یہ صرف ایک تکنیکی خرابی نہیں بلکہ طلبا کے مستقبل سے جڑا انتہائی سنگین معاملہ ہے۔
300سال پرانی مورتی چوری
باراں، 15 جولائی (یو این آئی) راجستھان میں باراں ضلع کے شاہ آباد علاقے میں واقع ایک قدیم، تاریخی اور سیاحتی جین مندر سے قریب 300 سال پرانی قدیم مورتی چوری ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔









