بھوپال 15جولائی: وزیر اعلیٰ مسٹر موہن یادو نے بدھ کے روز اندور میں ریاستی سطح کے بلرام زرعی مہوتسو کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ مدھیہ پردیش حکومت نے سال 2026 کو “کسان فلاح سال” کے طور پر وقف کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے زراعت، باغبانی، مویشی پروری، ماہی پروری، کوآپریٹو، ایم ایس ایم ای، محکمہ مال، توانائی سمیت 16 محکموں کو ایک ساتھ لا کر کسانوں کی ہمہ جہت ترقی کی مہم شروع کی گئی ہے اور کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے روڈ میپ تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہوتسو محض ایک تقریب نہیں بلکہ کسانوں کی آمدنی میں اضافہ، جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی، زرعی پیداوار کی پروسیسنگ، مارکیٹنگ اور روزگار سے جوڑنے کی ایک وسیع مہم ہے
، جس کا انعقاد اب ریاست کے تمام اضلاع میں کیا جائے گا۔ اس مہم کے تحت ریاست کے تمام 55 اضلاع میں آئندہ 13 نومبر تک متعدد پروگرام منعقد ہوں گے اور زراعت و کسانی سے متعلق سرگرمیاں انجام دی جائیں گی۔
وزیر اعلیٰ مسٹر موہن یادو نے کہا کہ وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کی قیادت میں کسانوں، خواتین، نوجوانوں اور غریبوں کی ہمہ جہت ترقی کے عزم کے ساتھ حکومت آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک کے ان چاروں طبقات کی ترقی یقینی ہو جائے تو بھارت کی ترقی خود بخود یقینی ہو جائے گی۔ کسان ان چاروں طبقات کا مرکز ہے، اسی لیے حکومت نے کسانوں کی فلاح کو اعلیٰ ترین ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال حکومت نے صنعت و روزگار سال منایا تھا، جس کے نتیجے میں ریاست میں 10 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری عملی شکل اختیار کر رہی ہے۔ اب اسی طرح سال 2026 کو کسان فلاح سال کے طور پر مناتے ہوئے زرعی شعبے میں وسیع پیمانے پر تبدیلی لائی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ مسٹر موہن یادو نے کہا کہ مدھیہ پردیش قدرتی وسائل سے مالا مال ریاست ہے۔ ریاست کی 250 سے زائد ندیاں لاکھوں لوگوں کی زندگی کو خوشحال بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومتوں نے نرمدا جیسی حیات بخش ندی کے پانی کا مناسب استعمال نہیں کیا، جبکہ وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کی قیادت میں نرمدا وادی کے منصوبوں کو نئی رفتار ملی۔ متعدد منصوبوں کے ذریعے مالوا خطے کو آبپاشی اور پینے کا پانی فراہم کیا گیا اور ریاست کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بھی مضبوط ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ سال 1956 سے 2003 تک ریاست میں صرف 7.5 لاکھ ہیکٹیئر رقبے پر آبپاشی کی سہولت دستیاب تھی، جبکہ ہماری حکومتوں نے اسے بڑھا کر 65 لاکھ ہیکٹیئر تک پہنچا دیا ہے۔ آئندہ برسوں میں زیرِ آبپاشی رقبہ مزید بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔