ممبئی/شولاپور، 8جولائی: اردو کارواں کے زیرِ اہتمام معروف شاعر بشیر بدر کی شخصیت اور فن پر منعقدہ دو روزہ عالمی آن لائن سیمینار علمی، تنقیدی اور تحقیقی مباحث کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔ اختتامی روز منعقدہ مختلف اجلاسوں میں ملک کی ممتاز جامعات کے اساتذہ، محققین اور بیرونِ ملک سے شریک ریسرچ اسکالروں نے بشیر بدر کی شاعری کے مختلف فنی، فکری اور تنقیدی پہلوؤں پر اپنے تحقیقی مقالات پیش کیے۔
چوتھے اجلاس کے صدر ڈاکٹر عبدالرب استاد نے مقالہ نگاروں کے مقالات کا باریک بینی سے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ بشیر بدر کی شاعری مشرقی روایتوں کی امین ہے اور ہمارے معاشرے کے حالات، احساسات اور اقدار کی بھرپور عکاس ہے۔” اس اجلاس کے دوسرے صدر پروفیسر غلام سرور ساجد، شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے کہا کہ “اچھا شاعر خود اپنا ناقد ہوتا ہے، اور بشیر بدر میں یہ وصف بدرجۂ اتم موجود تھا۔” انہوں نے اس بین الاقوامی سیمینار کے کامیاب انعقاد پر اردو کارواں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے اپنی شرکت کو باعثِ اعزاز قرار دیا۔
پانچویں اجلاس کے صدر، نیپال کے معروف شاعر و ادیب ڈاکٹر ثاقب ہارونی نے کہا کہ جدید شاعری کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، تاہم روایتی شاعری کی اپنی مستقل شناخت اور ادبی وقعت ہے، جسے عربی و فارسی الفاظ کی آمیزش کی بنیاد پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
چھٹے اجلاس میں پروفیسر ستار، سابق رجسٹرار مولوی عبدالحق یونیورسٹی، کرنول اور پروفیسر ڈاکٹر عطا اللہ خان سنجری، کیرلا نے مقالات کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ تحقیقی مقالہ لکھنا اور اسے مؤثر انداز میں پیش کرنا دو الگ الگ فنون ہیں۔ انہوں نے نوجوان محققین پر زور دیا کہ وہ درست تلفظ، مؤثر اندازِ بیان اور معیاری پیش کش پر خصوصی توجہ دیں تاکہ تحقیق کا پیغام سامعین تک بہتر انداز میں پہنچ سکے۔
سیمینار میں ملک کی تقریباً پچیس جامعات کے شعبہ ہائے اردو سے وابستہ ریسرچ اسکالروں نے اپنے تحقیقی مقالات پیش کیے، جبکہ بیرونِ ملک تہران (ایران) سے ریسرچ اسکالر سمیرا گیلانی نے “بشیر بدر کی شاعری ناقدوں کی آرا کے آئینے میں” کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کر کے سیمینار کو بین الاقوامی رنگ عطا کیا۔
اختتامی اجلاس کی صدارت چوہدری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کے صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے کی۔ انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں بشیر بدر کی شخصیت، شاعری اور ادبی سفر کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ میرٹھ سے ان کا گہرا تعلق تھا، مگر فرقہ وارانہ فسادات میں ان کا مکان جلائے جانے کے بعد وہ مستقل طور پر بھوپال منتقل ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم اہلِ علم و ادب کی زندگی میں ان کی حقیقی قدر نہیں کرتے، بلکہ ان کے انتقال کے بعد انہیں غیر معمولی مقام دیتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا، “ہمیں بشیر بدر کے فن کی قدر کرنی چاہیے مگر انہیں بت نہیں بنانا چاہیے، کیونکہ ہر شاعر اور ادیب کی تخلیقات علمی اور تنقیدی جائزے کی مستحق ہوتی ہیں۔” انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ جلد ہی چوہدری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ میں بشیر بدر پر ایک آف لائن قومی سیمینار منعقد کیا جائے گا۔
اختتامی اجلاس میں اردو کارواں کی جانب سے فرید احمد خان نے مہمانانِ کرام کا استقبال کرتے ہوئے سیمینار کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور صدارتی اجلاس کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کا جامع تعارف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اردو کارواں گزشتہ دس برسوں سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر معیاری ادبی، تحقیقی اور علمی پروگراموں کے انعقاد کے ذریعے اردو زبان و ادب کی خدمت انجام دے رہا ہے اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
پروگرام کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد شفیع چوبدار نے ملک و بیرونِ ملک سے شریک تمام صدورِ اجلاس، مہمانانِ خصوصی، محققین، اساتذہ، طلبہ اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سیمینار کی کامیابی میں پروفیسر سمیہ باغبان، صدف آرا چوبدار اور اردو کارواں کے تمام اراکین نے نمایاں کردار ادا کیا۔ اس موقع پر یہ بھی بتایا گیا کہ کل ہند سطح پر اردو کارواں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے 31 مئی کو بشیر بدر پر پہلی قومی آن لائن تعزیتی نشست منعقد کی اور اس کے بعد ان کی شخصیت و فن پر پہلا دو روزہ بین الاقوامی آن لائن سیمینار بھی کامیابی سے منعقد کیا۔ منتظمین نے اعلان کیا کہ سیمینار میں پیش کیے گئے تمام منتخب تحقیقی مقالات کو ISBN نمبر کے حامل خصوصی مجلے میں شائع کیا جائے گا تاکہ یہ علمی سرمایہ مستقل طور پر محفوظ رہ سکے۔