میلبورن9جولائی:وزیرِ اعظم نریندر مودی اس وقت آسٹریلیا کے دورے پر ہیں۔ یہاں انہوں نے ہندوستان-آسٹریلیا تعلقات کا جشن مناتے ہوئے میلبورن میں ہندوستانی برادری سے خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے دونوں ممالک کی دوستی کے بارے میں بہت سی باتیں کیں، لیکن خاص طور پر دہشت گردی کے مسئلے پر دونوں ممالک کے اتفاقِ رائے کا ذکر کیا۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے آپریشن سندور کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا، “حملے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ہو رہے تھے، لیکن ان کی گونج پوری دنیا میں سنائی دے رہی تھی۔” اگر انہوں نے آسٹریلیا کی سرزمین پر یہ بیان دیا ہے تو یہ کوئی اتفاق نہیں ہے۔
وزیرِ اعظم مودی کا کھلے اسٹیج سے یہ بات کہنا ایک سوچا سمجھا قدم تھا۔ وہ یہ واضح پیغام دینا چاہتے تھے کہ آسٹریلیا ہندوستان کا قابلِ اعتماد دوست ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دونوں ممالک شراکت دار ہیں۔ جتنا ہندوستان نے دہشت گردی کا درد جھیلا ہے، اتنا ہی آسٹریلیا نے بھی اسے محسوس کیا ہے۔ ایسے میں جب ہندوستان نے پہلگام حملے کے بعد پاکستان کے خلاف کارروائی کی تو ہندوستان کے حق میں بولنے والے ممالک میں آسٹریلیا صفِ اول میں کھڑا تھا۔ آسٹریلیا وہ ملک ہے جو کئی دہشت گردانہ سازشوں اور حملوں کا سامنا کر چکا ہے۔ ان میں سے بعض کا تعلق پاکستانی نژاد افراد یا پاکستان سے منسلک نیٹ ورکس سے پایا گیا تھا۔ وزیرِ اعظم مودی کا یہ بیان انہی واقعات کے تناظر میں تھا، جہاں آسٹریلیا نے بھی ہندوستان کی طرح پاکستان سے منسلک دہشت گردی کا سامنا کیا ہے۔









