نئی دہلی6جولائی: دہلی ہائی کورٹ نے دہلی جم خانہ کلب کو خالی کرانے کے لیے جاری کیے گئے ’وجہ بتاؤ نوٹس‘ کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے مرکز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت 28 جولائی مقرر کی ہے۔ جسٹس اونیش جھنگن کی یک رکنی بنچ نے پیر کے روز اس معاملے کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے ورچوئل ذریعے سے پیش ہو کر مؤقف اختیار کیا کہ انہیں درخواستوں کی نقول صرف ایک روز قبل موصول ہوئی ہیں، اس لیے جواب داخل کرنے کے لیے مناسب وقت دیا جائے۔ عدالت نے ان کی درخواست منظور کرتے ہوئے مرکز کو جواب داخل کرنے کی مہلت دے دی۔ مرکزی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل چیتن شرما بھی عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ درخواست گزاروں کی نمائندگی سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی اور جینت مہتا نے کی۔ یہ درخواستیں دہلی جم خانہ کلب کے رکن وجے کھرانہ اور کلب کی اسٹاف ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر کی گئی ہیں۔ ان میں مرکزی حکومت کی اس کارروائی کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے تحت وہ لٹیئنز دہلی میں واقع تاریخی جم خانہ کلب کے احاطے کا دوبارہ قبضہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب مرکزی حکومت نے صفدر جنگ روڈ پر واقع کلب کے احاطے سے قبضہ واپس لینے کی کارروائی شروع کی۔ اس سلسلے میں لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس کے اسٹیٹ افسر نے وہاں موجود افراد کو ’وجہ بتاؤ نوٹس‘ جاری کرتے ہوئے ان سے وضاحت طلب کی۔ اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ نے اسی معاملے میں دہلی جم خانہ کلب کو کوئی عبوری راحت دینے سے انکار کر دیا تھا۔
عدالت نے درخواستوں پر سمن جاری کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے نوٹس پر فوری روک لگانے سے بھی انکار کیا تھا۔









