نئی دہلی 4جولائی: کانگریس نے ایودھیا کے شری رام مندر میں نذرانہ و عطیات کی ہوئی چوری پر آر ایس ایس کے حالیہ بیان کو ’گھڑیالی آنسو‘ قرار دیا ہے۔ پارٹی نے اس معاملہ میں نہ صرف آر ایس ایس اور بی جے پی سے تلخ سوالات پوچھے ہیں، بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ بی جے پی-آر ایس ایس شری رام کے پجاری نہیں ہیں، وہ کاروباری ہیں جنھوں نے سناتن مذہب اور رام بھکتوں کو دھوکہ دیا ہے۔ کانگریس ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اتر پردیش قانون ساز پارٹی کی لیڈر آرادھنا مشرا نے کچھ اہم باتیں سامنے رکھیں۔ انھوں نے کہا کہ آر ایس ایس-بی جے پی گھڑیالی آنسو بہا کر خود کو اس معاملہ سے الگ کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہندوستانی باشندے اور رام بھکت انھیں معاف نہیں کریں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ آر ایس ایس لیڈر دتاترے ہوسبولے نے ٹیلی پرامپٹر پر لکھا ہوا بیان پڑھا، لیکن اس سے آر ایس ایس اس گناہِ عظیم اور اپنی ذمہ داری سے کنارہ نہیں کر سکتا۔ انھوں نے اس پورے معاملے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی پر بھی سوال اٹھایا۔ آرادھنا مشرا نے نذرانہ چوری معاملہ پر کئی سنگین سوالات پریس کانفرنس میں میڈیا اہلکاروں کے سامنے رکھے۔ انھوں نے کہا کہ ’شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ‘ کا انتظام و انصرام دیکھنے والے چمپت رائے بنسل، انل مشرا اور گوپال راؤ آر ایس ایس سے جڑے ہوئے۔ کیا اس بات سے آر ایس ایس انکار کر سکتا ہے؟ اگر آر ایس ایس واقعی اس واقعہ سے تکلیف میں ہے، تو اس نے ان عہدیداروں کے خلاف کیا کارروائی کی؟ آخر کیوں ان لوگوں پر ابھی تک ایف آئی آر بھی درج نہیں کی گئی ہے؟ جو ٹرسٹ کے مالک بن کر بیٹھے تھے، ان کی جوابدہی اب تک کیوں طے نہیں کی گئی؟