بھوپال، 5 جولائی: صوبائی کانگریس دفتر بھوپال میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے قومی سکریٹری اور سابق رکنِ اسمبلی کنال چودھری نے مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت اور موجودہ مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان پر منریگا، دیہی روزگار اور کسانوں کے مسائل کو لے کر تیکھا حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے منریگا جیسی دنیا کی سب سے بڑی روزگار گارنٹی اسکیم کا نام بدل کر ’’جی-رام‘‘ کر دیا ہے اور اب 125 دن روزگار دینے کا جھوٹا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت پچھلے دس سالوں میں غریبوں کو قانون کے مطابق 100 دن کا روزگار بھی فراہم نہیں کرا سکی۔ انہوں نے اسمبلی میں کانگریس اراکینِ اسمبلی پرتاپ گریوال اور پنکج اپادھیائے کے سوالوں پر حکومت کے اعترافی جواب کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ریاست کے 52 اضلاع میں رجسٹرڈ مزدوروں میں سے ایک فیصد کو بھی پورے 100 دن کا کام نہیں ملا ہے۔ اس موقع پر سابق ترجمان آنند جاٹ، راہل راج اور متھن اہیروار بھی موجود تھے۔
کنال چودھری نے سنگین الزام لگایا کہ کورونا وبا جیسے مشکل وقت میں، جب دیہاتوں میں روزگار کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، تب حکومت نے لاکھوں غریب مزدوروں کے جاب کارڈ ہی کاٹ دیے؛ صرف سال 21-2020 میں 43 لاکھ 43 ہزار سے زائد مزدوروں کے نام جاب کارڈ سے ہٹا دیے گئے، جو کہ حکومت کی مزدور مخالف ذہنیت کا کھلا ثبوت ہے۔ انہوں نے قانون کے مطابق جنگلاتی حقوق کے پٹہ ہولڈرز کو 150 دن کا روزگار نہ ملنے اور قبائلی اضلاع کی بدحالی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان سے چار براہِ راست سوال پوچھے اور مطالبہ کیا کہ حکومت پچھلے دس سالوں کا وائٹ پیپر جاری کر کے سچائی سامنے لائے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کسانوں کے معاملے پر بھی حکومت کو گھیرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں تقریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن مونگ کی پیداوار ہوئی ہے لیکن حکومت نے صرف 4.5 لاکھ میٹرک ٹن کی خریداری کی منظوری دی ہے، جس کا مطلب ہے کہ محض 25 فیصد فصل ہی ایم ایس پی (MSP) پر خریدی جائے گی۔ کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ کسانوں کی 100 فیصد مونگ ایم ایس پی پر خریدی جائے، اور انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ سڑک سے لے کر ایوان تک کسانوں اور مزدوروں کے حقوق کی لڑائی پوری مضبوطی سے لڑتے رہیں گے۔









