نئی دہلی 4جولائی: ایودھیا رام مندر میں عطیات چوری معاملے میں تحقیقات جیسے جیسے آگے بڑھ رہی ہے، ویسے ویسے نئے انکشافات ہو رہے ہیں۔ پولیس حراست میں ملزم اویناش شکلا سے ہوئی پوچھ تاچھ میں کئی ایسی باتیں سامنے آئی ہیں، جو اس پورے نیٹورک کو سمجھنے میں اہم مانی جا رہی ہے۔ اویناش نے تسلیم کیا کہ عطیات سے نکالی گئی رقم ملزمان کے درمیان تقسیم کی جاتی تھی، چوری کے ثبوت مٹانے کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج ڈیلیٹ کرنے کی کوشش ہوتی تھی۔ 13 گھنٹے کی پولیس کسٹڈی ریمانڈ کے بعد رام مندر عطیات چوری کے ملزم اویناش شکلا کو ایودھیا کی جیل میں بھیج دیا گیا ہے۔
ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر ذرائع کے حوالے سے شائع خبر کے مطابق پولیس نے حراست کے دوران اویناش شکلا کو تقریباً 45 دنوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ویڈیو دیکھنے کے بعد اویناش ٹوٹ گیا اور اس نے چوری میں اپنا کردار قبول کر لیا۔ پوچھ تاچھ میں اس نے مانا کہ وہ مسلسل عطیات کی رقم میں ہیرا پھیری کرتا تھا اور اس کام میں وہ اکیلا نہیں تھا۔ اویناش نے پولیس کو بتایا کہ چوری کے بعد تمام ملزمان رقم آپس میں تقسیم کر لیتے تھے۔ زیادہ تر معاملات میں رقم برابر برابر تقسیم کی جاتی تھی۔
حالانکہ کئی بار کچھ لوگ زیادہ حصہ بھی لے جاتے تھے۔ پوچھ تاچھ کے دوران اویناش نے یہ بھی کہا کہ پورے نیٹورک میں ٹنو یادو کا دبدبہ تھا۔ ملزمان کے درمیان ان کی بات حرف آخر تصور کی جاتی تھی اور پورے پلان میں اس کا کردار اہم تھا۔ پوچھ تاچھ میں سامنے آیا کہ ملزمان کو پکڑے جانے کا ڈر بہت کم تھا، اور اس کی وجہ بھی بتائی۔ اویناش کے مطابق ٹنو یادو اکثر کہا کرتا تھا کہ کچھ نہیں ہوگا، سی سی ٹی وی فوٹیج دیلیٹ کر دی جائیں گی۔ ٹنو کی ذمہ داری نگرانی سے متعلق تھی، یہی وجہ ہے کہ سیکورٹی انتظامات میں اس کی موجودگی پر کسی کو شک نہیں ہوتا تھا۔ الزام ہے کہ اسی بھروسے کا فائدہ اٹھا کر ملزم طویل عرصے تک عطیات کی رقم نکالتا رہا۔