گورکھپور:29؍جون (پریس ریلیز)تحریک ندوۃ العلماء کے ایک حقیقی اور عظیم ترجمان ، دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے مایۂ ناز استاذ اور نیر تاباں حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی کے سانحہ وفات پر آل انڈیا مل کونسل کے رکن عاملہ اور تنظیم ابنائے ندوہ بہار کے کنوینر مولانا طارق شفیق ندوی نے اپنے شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا شمار نہ صرف یہ کہ برصغیر کے مقتدر علماء میں ہوتا تھا بلکہ وہ عالم اسلام کے بھی ممتاز ترین اصحاب فضل وکمال میں شامل تھے وہ اسلام کے ایک جانباز سپاہی اور داعی و معلم تھے۔ وہ پہلے ہندوستانی عالم دین تھے جو عالمی سیاست کی پالیسی پہ کھل کر تنقید کیا کرتے تھے ۔وہ برصغیر کے مروجہ نصاب و نظام تعلیم میں تغیر و تبدل کے لئے اواز اٹھاتے رہتے تھے۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ موجودہ نظام تعلیم امت کو علمی فکری قیادت نہیں دے سکتا ہے۔ موصوف مولانا ابوالکلام آزاد اور سید الطائفہ علامہ سید سلیمان ندوی کے علمی اور ادبی روایتوں کے امین و علمبردار تھے۔ نصف صدی تک دین مبین کی حفاظت کے لئے سینہ سپر رہنے والے مرد مومن تھے۔
مولاناموصوف فکر اسلامی کو پروان چڑھانے میں پیش پیش رہا کرتے تھے جس کی وجہ سے مفکر اسلام کے نزدیک سب سے زیادہ معتبر و مستند تھے، مولانا سید سلمان حسینی ندوی بے حد زرخیز دماغ کے مالک تھے۔ اس سلسلے میں ان کے کارناموں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔ وہ مظلوموں کے حق میں آواز آٹھانے والے بے باک ملی رہنما تھے، اسلام کے دفاع میں شمشیر بے نیام رہنے والے مرد مجاہد تھے۔ باطل کے سامنے کوہ گراں اور مرد آہن تھے۔ ان کی رحلت سے بر صغیر ہی نہیں عالم اسلام کا عظیم خسارہ ہوا ہے ۔ اس صدی میں دنیا ان کا نعم البدل پیش کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔









