نئی دہلی 27جون: وزیراعظم نریندر مودی کو سیشلز کے تین روزہ سرکاری دورے پر دارالحکومت پہنچنے پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔ اس دورے کو بحرِ ہند کے خطے میں بھارت کی بڑھتی ہوئی سفارتی اور اسٹراٹیجیک سرگرمیوں کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ نئی دہلی حالیہ برسوں میں بحرِ ہند کے جزیرہ نما ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دے رہا ہے، اور سیشلز کا یہ دورہ اسی پالیسی کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت اور سیشلز کے تعلقات صرف جدید سفارت کاری تک محدود نہیں بلکہ ان کی جڑیں کئی صدیوں پر محیط مشترکہ تاریخ میں پیوست ہیں۔ آج سیشلز کی تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار کی آبادی میں کم از کم پانچ فیصد افراد بھارتی نژاد ہیں، جن میں بہار، تمل ناڈو اور گجرات سے تعلق رکھنے والے خاندان نمایاں ہیں۔ بھارت اور سیشلز کے درمیان روابط کا آغاز اٹھارہویں صدی میں ہوا، جب 1770 میں پانچ بھارتی مزدوروں کا ایک چھوٹا سا گروپ فرانسیسی نوآبادکاروں کے ساتھ اس جزیرہ نما ملک پہنچا۔ ان کے ساتھ سات افریقی غلام اور پندرہ فرانسیسی آبادکار بھی موجود تھے۔ ان بھارتی مزدوروں کو باغات میں کام کرنے کے لیے لایا گیا تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور بھارتی برادری سیشلز کے سماجی اور اقتصادی ڈھانچے کا اہم حصہ بنتی چلی گئی۔ سیشلز نے 29 جون 1976 کو برطانیہ سے آزادی حاصل کی، جس کے فوراً بعد بھارت نے اس کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کر لیے۔
سیشلز کی آزادی کی تقریبات میں بھارتی بحریہ کے جنگی جہاز آئی این ایس نیلگیری (INS Nilgiri) کے دستے نے بھی شرکت کی تھی، جبکہ 1979 میں بھارت نے وکٹوریہ میں اپنا سفارتی مشن قائم کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوتے گئے اور آج سیشلز بحرِ ہند کے مغربی حصے میں بھارت کا ایک اہم بحری اور اسٹراٹیجیک شراکت دار تصور کیا جاتا ہے۔ دفاع، میری ٹائم سکیورٹی، انسدادِ قزاقی، صحت، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، انسانی وسائل کی تربیت اور صلاحیت سازی جیسے کئی شعبوں میں دونوں ممالک قریبی تعاون کر رہے ہیں۔