کولکاتا21جون: ہندوستانی بحریہ اپنی طاقت بڑھانے کے لیے مسلسل دیسی جنگی جہازوں کو اپنے بیڑے میں شامل کر رہی ہے۔ جدید جنگی جہاز یکے بعد دیگرےبیڑے میں شامل کیے جا رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں 21 جون کا دن تاریخ میں درج ہو گیا، جب پی ایم نریندر مودی نے ایک ہی دن میں تین جنگی جہاز بحری بیڑے میں شامل کرائے۔ یہ تینوں مقامی جہاز 30 مارچ کو بحریہ کے حوالے کیے گئے تھے۔ کولکاتا میں واقع شیاما پرساد مکھرجی پورٹ میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں ان تینوں جنگی جہازوں کو بحری بیڑے کا حصہ بنایا گیا۔ان میں گائیڈڈ میزائل فریگیٹ آئی این ایس دوناگیری، اینٹی سب میرین وارفیئر شالو واٹر کرافٹ ’آئی این ایس اگریہ، لارج سروے ویسل آئی این ایس سنشودھک شامل ہیں۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہاکہ آج اسی سرزمین پر آتم نربھر بھارت اور ترقی یافتہ بھارت سے جڑا ایک اہم پروگرام منعقد ہو رہا ہے۔ آئی این ایس دوناگیری، آئی این ایس اگریہ اور آئی این ایس سنشودھک کو بحریہ میں شامل کیا گیا ہے۔ ویسے آج 21 جون کو عالمی ہائیڈروگرافی ڈے بھی منایا جاتا ہے، اور یہ ایک حیرت انگیز اتفاق ہے کہ آج کے دن ہم نے بھارت کا جدید ترین ہائیڈروگرافک جہاز آئی این ایس سنشودھک کمیشن کیا ہے۔ پی ایم مودی نے کہا کہ دنیا اس حقیقت کی گواہ ہے کہ سمندری صلاحیت کے بغیر کوئی بھی ملک بڑی طاقت نہیں بن سکتا۔ انہوں نے کہاکہ سمندر ترقی سے جڑا ہے، سلامتی سے جڑا ہے اور خوشحالی سے جڑا ہے۔ آج دنیا کی زیادہ تر تجارت سمندری راستوں سے ہوتی ہے۔ دنیا کو جوڑنے والے ڈیٹا نیٹ ورکس بھی سمندر کے نیچے سے گزرتے ہیں۔ آنے والے وقت میں معدنیات، گہرے سمندر کے وسائل اور توانائی کے نئے ذرائع بھی سمندر سے وابستہ ہوں گے۔ اس لیے جس ملک کی سمندری طاقت مضبوط ہوگی، اس کا معاشی اور تزویراتی اثر و رسوخ بھی اتنا ہی مضبوط ہوگا۔







