بھوپال:19جون:آج قاضی شہر حضرت مولانا سید مشتاق علی ندوی مدظلہٗ نے موتی مسجد بھوپال میںنماز جمعہ سے قبل اپنے خطاب میں نئے اسلامی سال کی اہمیت و فضیلت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ محترم سامعین وقت کا پہیہ مسلسل گردش میں ہے اور زندگی کا سفر ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں اسلامی سال کا آغاز ایک بندۂ مؤمن کے لئے صرف سال کی تبدیلی نہیں بلکہ خود احتسابی، بیداریِ فکر اور روحانی تجدید کا ایک اہم موقع ہے۔ ماہِ محرم الحرام ہمیں اسلامی تاریخ کے ان روشن ابواب کی یاد دلاتا ہے جن میں قربانی صبر استقامت اور دین کیلئے بے لوث جدوجہد کی لازوال داستانیں رقم ہیں۔ یہ وہ مہینہ ہے کہ ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں اپنی کمزوریوں کو دور کریں اور اللہ ربّ العزت کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد بنا کر ایک نئے عزم اور نئے حوصلے کے ساتھ آگے بڑھیں۔
ماہ محرم اسلامی سال کا پہلا اور نہایت بابرکت مہینہ ہے۔ اس کے آغاز کے ساتھ ہی ایک نیا ہجری سال شروع ہوتا ہے جو مسلمانوں کو اپنی زندگی ،اعمال اور کردار کا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ نئے سال کا حقیقی استقبال یہی ہے کہ بندۂ مؤمن اللہ ربّ العزت کا شکر ادا کرے کہ اس نے ایمان کی حالت میں ایک اور سال عطا فرمایا۔ گزشتہ زندگی کا جائزہ لیا جائے اور نیکیوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنی کوتاہیوں پر سچی توبہ کرتے ہوئے آئندہ زندگی کو مزید بہتر بنانے کا عزم کیا جائے ۔
قاضی شہر نے فرمایا کہ ہجری سال کی بنیاد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عظیم ہجرت پر رکھی گئی ہے۔ ہجرت کا یہ تاریخی واقعہ قربانی، صبر، استقامت اور دینِ اسلام کے لئے ہر چیز نچھاور کرنے کے جذبے کی یاد دلاتا ہے۔ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے نتیجے میں مسلمانوں کو ایک مضبوط مرکز حاصل ہوا ،اسلامی معاشرہ وجود میں آیا، دین کی تعلیم و تبلیغ کیلئے سازگار ماحول میسر آیا اور اسلام کی تعلیمات دنیا کے کونے کونے تک پہنچنے لگیں۔ اس لئے ہجری سال کا آغاز اللہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی رضا کیلئے ہر قسم کی قربانی پیش کرنا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔
محرم الحرام ان چار مہینوں میں شامل ہے جنہیں اللہ ربّ العزت نے خصوصی حرمت اور عظمت عطا فرمائی ہے۔ اسی نسبت سے اس کا نام محرم رکھا گیا جس کے معنی ہی احترام اور بزرگی کے ہیں۔ اس مہینے میں متعدد تاریخی اور دینی واقعات رونما ہوئے۔ یومِ عاشوراء کو اللہ ربّ العزت نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات عطا فرمائی۔ اس دن کے روزے کی بڑی فضیلت احادیث میں بیان کی گئی ہے اور یہ گزشتہ ایک سال کے صغیرہ گناہوں کے کفارے کا سبب بنتا ہے۔
اسی ماہِ محرم میں نواسہ رسول حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے وفادار رفقاء نے میدانِ کربلا میں عظیم قربانی پیش کی۔ ان کی شہادت صبر استقامت اور دین پر ثابت قدمی کی روشن مثال ہے جسے قیامت تک یاد رکھا جائے گا۔ تاہم اسلام ہمیں یہ تعلیم نہیں دیتا کہ اس واقعے کی یاد میں غیر شرعی سوگ ماتم یا خود ساختہ رسومات اختیار کی جائیں بلکہ ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے حق اور عدل کی حمایت کی جائے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے مسلمان محرم الحرام کی اصل فضیلت اور عظمت سے ناواقف ہیں۔ بعض لوگ اسے نحوست یا صرف غم کا مہینہ سمجھتے ہیں حالانکہ شریعت میں اس کی کوئی بنیاد نہیں۔ نکاح خوشی کی تقریبات اور دیگر جائز کاموں کو اس مہینے میں معیوب سمجھنا بھی درست نہیں۔ اسلام ہر قسم کی بدشگونی اور بے بنیاد رسم و رواج اور غلو سے منع کرتا ہے۔
اس مبارک مہینے کا ایک اہم پیغام یہ بھی ہے کہ مسلمان اپنے اسلامی مہینوں، تاریخوں اور ہجری تقویم سے تعلق مضبوط کریں۔ افسوس کہ آج بہت سے مسلمانوں کو اسلامی مہینوں اور تاریخوں کا علم تک نہیں ہوتا اور ہر دینی موقع کی پہچان کے لئے غیر اسلامی تقویم کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ ضرورت اس کی ہے کہ ہم اپنی اسلامی شناخت کو زندہ کریں اور اپنی زندگی میں ہجری تقویم کو اہمیت دیں۔
ماہِ محرم شکر، توبہ، اصلاحِ نفس، قربانی، استقامت اور دین سے مضبوط وابستگی کا درس دیتا ہے۔ اگر ہم اس مہینے کے حقیقی پیغام کو سمجھ لیں تو یہ ہمارے لئے نئی روحانی زندگی ایمان کی تازگی اور اللہ ربّ العزت کی قربت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
اللہ ربّ العزت ہمیں ماہِ محرم کی برکتوں سے بھرپور استفادہ کرنے، دین کی صحیح سمجھ حاصل کرنے اور سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔









