نئی دہلی16جون: سپریم کورٹ نے آدھار کے استعمال کی قانونی حدود اور اس کے غلط استعمال سے متعلق دائر مفاد عامہ کی ایک عرضی پر غور کرنے پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے مرکزی حکومت، تمام ریاستی حکومتوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں، الیکشن کمیشن اور منفرد شناختی اتھارٹی ہند (یو آئی ڈی اے آئی) کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت 7 اگست کو مقرر کی ہے۔ یہ عرضی وکیل اشونی کمار اپادھیائے کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ متعلقہ حکام کو ہدایت دی جائے کہ آدھار کا استعمال صرف شناخت کے ثبوت کے طور پر کیا جائے اور اسے شہریت، رہائش، پتہ یا تاریخ پیدائش کے ثبوت کے طور پر قبول نہ کیا جائے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ آدھار قانون 2016 کی دفعہ 9 واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ آدھار نہ تو شہریت کا ثبوت ہے اور نہ ہی رہائش کا، جبکہ یو آئی ڈی اے آئی بھی متعدد مواقع پر واضح کر چکی ہے کہ آدھار صرف شناخت کی تصدیق کے لیے ہے۔ عرضی کے مطابق قانونی دفعات اور عدالتی فیصلوں کے باوجود آدھار کو مختلف سرکاری اور انتظامی معاملات میں عمر، رہائش اور شہریت کے ثبوت کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس میں اسکولوں میں داخلے، جائیداد کے لین دین، پیدائش کے سرٹیفکیٹ، راشن کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا جیسے معاملات شامل ہیں۔ عرضی میں خاص طور پر نئے ووٹر اندراج کے لیے استعمال ہونے والے فارم نمبر 6 میں تاریخ پیدائش اور رہائشی پتے کے ثبوت کے طور پر آدھار کی قبولیت کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ یہ عمل آدھار قانون، یو آئی ڈی اے آئی کی ہدایات اور عوامی نمائندگی سے متعلق قوانین کے منافی ہے۔








