نئی دہلی 14جون:ڈونلڈ ٹرمپ کی پابندیوں کی دھمکیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے بھارت مسلسل روس سے تیل اور گیس خرید رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مئی 2026 میں بھارت روسی فوسل فیول کا دنیا کا دوسرا سب سے بڑا خریدار رہا۔ یہ انکشاف یورپی تحقیقی ادارے سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ہندوستانی ریفائنریوں کی جانب سے خریداری میں اضافے کے باعث روس سے خام تیل اور دیگر ایندھن کی مجموعی درآمدات بڑھ کر 5.8 ارب یورو، یعنی تقریباً 56 ہزار کروڑ روپے سے تجاوز کر گئیں۔ مئی میں روسی خام تیل کی برآمدات میں چین کا حصہ 50 فیصد رہا جبکہ بھارت 36 فیصد حصے کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ CREA کی رپورٹ کے مطابق، مئی کے مہینے میں روس سے بھارت کی مجموعی درآمدات میں خام تیل کا حصہ تقریباً 83 فیصد رہا۔ خام تیل کے علاوہ ہندوستانی ریفائنریوں نے روس سے بڑی مقدار میں تیل کی مصنوعات اور کوئلہ بھی درآمد کیا۔ تیل کی مصنوعات کی درآمدات 55 کروڑ یورو جب کہ کوئلے کی درآمدات کی مالیت 42.9 کروڑ یورو رہی۔ مئی کے دوران بھارت کی مجموعی خام تیل درآمدات میں ماہانہ بنیاد پر 8 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس اضافے کی سب سے بڑی وجہ روس سے خام تیل کی درآمدات میں 21 فیصد اضافہ تھا۔