ممبئی یکم جون: ترنمول کانگریس کے ارکانِ پارلیمنٹ پر حملوں کے معاملے پر شیوسینا ادھو بالاصاحب ٹھاکرے (یو بی ٹی) نے مغربی بنگال میں صدر راج نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی نے اپنے ترجمان ’سامنا‘ کے اداریے میں ان واقعات کو نہایت سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال میں سیاسی تشدد خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے اور اس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ اداریے میں دعویٰ کیا گیا کہ ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری اور رکنِ پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنوں کی جانب سے حملہ انتہائی سفاکانہ اور بزدلانہ تھا۔ پارٹی کے مطابق گزشتہ دو دن کے دوران کولکاتا میں پیش آنے والے واقعات نے نہ صرف مغربی بنگال بلکہ پورے ملک کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ شیوسینا یو بی ٹی نے کہا کہ مغربی بنگال کو طویل عرصے تک ملک کی مہذب اور سیاسی طور پر بیدار ریاستوں میں شمار کیا جاتا رہا لیکن موجودہ حالات میں وہاں تشدد، نفرت اور ہجوم کی سیاست کو فروغ مل رہا ہے۔ اداریے میں بھارتیہ جنتا پارٹی پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ عوامی فلاح و بہبود کے بجائے سیاسی انتقام کی سیاست میں مصروف ہے۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ اگر ایسے ہی واقعات ممتا بنرجی کی حکومت کے دوران پیش آئے ہوتے تو گورنر فوری طور پر مرکز کو صدر راج کی سفارش کر دیتے۔ اداریے کے مطابق ابھیشیک بنرجی پر پتھراؤ کیا گیا اور وہ ہیلمٹ پہننے کی وجہ سے محفوظ رہے، جبکہ رکنِ پارلیمنٹ کلیان بنرجی بھی حملے کا نشانہ بنے۔
شیوسینا یو بی ٹی نے ابھیشیک بنرجی کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا جس میں انہوں نے حملے کو پہلے سے تیار کی گئی سازش اور قتل کی کوشش قرار دیا تھا۔ اداریے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے مغربی بنگال صدر سمک بھٹاچاریہ کے اس موقف کو بھی مسترد کیا گیا جس میں انہوں نے ان واقعات کو عوامی غصے کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے پارٹی کے کسی کردار سے انکار کیا تھا۔ شیوسینا یو بی ٹی کے مطابق یہ دلیل ناقابلِ یقین ہے اور واقعات منظم سیاسی غنڈہ گردی کی عکاسی کرتے ہیں۔ پارٹی نے مزید الزام لگایا کہ ترنمول کانگریس کو کمزور کرنے یا ریاست میں سیاسی غلبہ قائم کرنے کے لیے ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اداریے میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ اگر ماضی میں بنگلہ دیشی دراندازی کو جرائم کے فروغ کی وجہ قرار دیا جاتا تھا تو موجودہ دور میں تشدد کے ذمہ دار عناصر کون ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ’بی جے پی نے ثابت کر دیا کہ وہ نفرت کی سیاست کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتی‘، ابھشیک پر حملہ کے بعد اکھلیش کا تلخ تبصرہ
شیوسینا یو بی ٹی نے ریاستی حکومت اور گورنر کی خاموشی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ترنمول کانگریس کے دو ارکانِ پارلیمنٹ پر قاتلانہ حملوں کے باوجود اعلیٰ حکام کا ردعمل سامنے نہیں آیا۔ پارٹی کے مطابق اس خاموشی سے شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں اور ان واقعات کی غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے۔
اداریے کے آخر میں شیوسینا یو بی ٹی نے مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور بدانتظامی جیسے عوامی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان معاملات پر عوامی ناراضی کے بجائے سیاسی تشدد کے واقعات سامنے آنا تشویش کا باعث ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ حکمراں جماعت عوامی غصے کے رخ اور ریاست میں بڑھتی کشیدگی کے بارے میں جواب دے۔









