دین اسلام کے ہر دو رمیں قرآن و حدیث سے وابستگی اور کسبِ فیض جاری رہا ہے ، ہر عام و خاص اہلِ اسلام کے اس تعلق سے اسلام کی سربلندی و شادابی کے ساتھ خود مسلمانوں کی زندگیاں تابناک اور خوشنما ہوتی رہیں ، عہدِ رسالت کا کیا کہنا یہ عہد تو خیر القرون قرنی کے مطابق سب سے زیادہ ممتاز اور پُر نور رہا ہے ، اس کے بعد خلافتِ راشدہ اور مفسرین و محدثین نیز فقہائِ امت کا زمانہ آیا اور اسلامی تعلیمات زبان و قلم سے مضبوط اور مستحکم ہونے لگیںاور علماء اپنی مختلف زبانوں میں دین کی ترجمانی کے ساتھ ساتھ دعوت و تبلیغ اور رشد و ہدایت کا مرکز بن گئے نہ صرف عرب بلکہ عجم اور ایشیا و افریقہ کی آبادیوں میں علمائے کرام اور علم و روحانیت سے معمور اولیائے کرام کی آمد و رفت ہوتی رہی ، خود صحابہ کرامؓ اسی مقصد سے مکہ و مدینہ سے نکل کر دور دراز کے علاقوں میں پہونچے اور بلّغوا عنی و لو آیۃ کی تعمیل میں قرآن ، علم حدیث، فقہ و تفسیر کا درس دینے لگے اسی طرح ان کے شاگرد تابعین عظام و تبع تابعین اسی خدمت میں لگ گئے اور اپنی پوری پوری زندگیاں وقف کر دیں۔
سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ علماء کی شخصیات کے ساتھ ساتھ سینکڑوں کتابیں علوم اسلامیہ کے موضوعات پر ترتیب دی گئیں جو بعد میں آنے والی نسلوں کے لئے مشعلِ علم و دین ثابت ہوئیں جو آج تک پورے عالمِ اسلام اور غیر اسلامی ممالک میں تعلیماتِ دینیہ کا مرجع بنی ہوئی ہیں لیکن ہر دور میں علماء اور فضلاء کی ضرورت محسوس کی جاتی رہی کہیں وہ اساتذہ کہیں مبلغین کہیں اولیاء کی شکلوں میں ظاہر ہوئے اور اسلام اور مسلمانوں کے وجود کو جلا بخشتے رہے، اللہ کی نصرت و تائید ان کو حاصل رہی اور دلوں اور دماغوں کو نورانیت اور روحانیت کو تقسیم کرتے رہے لیکن دنیا کے جس خطہ میں ان کی موجودگی کم ہوئی یا ان کی سرگرمیاں سرد ہو گئیں، مسلمانوں کے عمل و کردار میں فرق آنے لگا اور بحیثیت ملت اسلامیہ ان کا وجود خطرہ میں پڑنے لگا ، ایسا بھی ہوا کہ خود اہل اسلام دنیا کے دیگر مشاغل اور تفریحات میں پڑ کر طبقۂ علماء سے دور ہو گئے اور نئے زمانہ کے تقاضوں سے دین کے عقائد و مسائل اور فضائل سے بیزار ہونے لگے اور ان کے اثرات زندگی میں باقی نہیں رہ گئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم اور قوم کا شرف و امتیاز مفقود ہوتا چلا گیا۔
بنیادی وجہ دین اور علوم دین کے ذمہ داروں اور داعیوں سے بے تعلقی رہی ، اسلام تو اپنی جگہ جوں کا توں رہا اس کی حقانیت ، صداقت باقی رہی لیکن باہمی رشتے علماء سے کمزور پڑنے لگے اور عملی زندگی میں نورِ ایمان مدھم پڑ گیا ،تاریخ شاہد ہے کہ ایسی محرومی ، زبوں حالی اور خساروں کے ماحول میں علماء نے ہی کوششیں کی ہیں اور ملتِ اسلامیہ کو بیدار کرنے کے لئے دینی ادارے بھی قائم کئے ہیں، بلکہ ان کی ساری تعلیم و تربیت اسی نہج پر ہوتی ہے کہ وہ فانہ ینظر بنور اللہ کے مصداق بن جاتے ہیں ویسی تعلیم و تربیت امت کے دوسرے طبقات کی نہیں ہوتی ، وہ فتنوں اور فتینوں اس وقت پہلے ہی مرحلے میں پہچان لیتے ہیں جب دوسرے ابھی غفلت کا شکار ہوتے ہیں اور فتنہ کے خلاف اس وقت اپنی مہم جوئی شروع کر دیتے ہیں جب وہ عام لوگوں کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو رہا ہوتا ہے مثلاً دار العلوم دیوبند، دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ، مدرسۃ العلوم علیگڑھ (مسلم یونیورسٹی علیگڑھ) کے فرزندان۔
مولانا قاسم نانوتوی صاحبؒ، مولانا محمد علی مونگیری صاحبؒ، علامہ شبلی نعمانی صاحبؒ اور سر سید احمد خاں صاحبؒ کی وہ شاندار مساعی ہیں جن کی وجہ سے برّ صغیرمیں اسلام کو نئی زندگی ملی اور قوم کو ہزاروں اہل علم و دانش اور داعیانِ حق نصیب ہوئے ، حضرت مولانا الیاس صاحبؒ کی دعوتی جد و جہد اور نظام الدین دہلی کا قیام اسی کی کڑی ہے۔
مسلمانانِ ہند کی انفرادی و اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ اقتصادی و معاشی جو بھی مشاغل رکھتے ہوں انہیں باقی رکھیں، ترقی دیں اسی کے ساتھ علماء و فضلاء دین سے قلبی اور ذہنی ربط رکھیں اور ان کے ماحول اور صحبتوں میں شریک رہیں اس سے خود ان کو ذاتی فائدہ تو ہو گا ہی بلکہ ان کی نسلوں کی دینی آبیاری ہوتی رہے گی اور اگر یہ سب نہ بھی ہو لیکن کسی بھی صورت میں علوم دینیہ کے علمبرداروں سے بیزاری اور نفرت نہ کریں ، ان کا ادب و احترام کریں ، ان کو اللہ نے دین کی تعلیم اور اشاعتِ اسلام کے لئے منتخب کیا ہے وہ خوش نصیب ہیں ایک دوسرا آدمی چاہے وہ سیاست، تہذیب و تمدن ، سائنسی صلاحیت اور ٹکنالوجی و ترقیات سے کیسا ہی تعلق رکھتا ہو ان کی برابری نہیں کر سکتا، حضور اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ ’’کسی عالم اور بوڑھے کی حقیر سمجھنے والا سوائے منافق کے کوئی اور نہیں ہو سکتا ‘‘ حوالہ حدیث۔۔۔۔۔۔) جس طبقہ کی فضیلتیں قرآن و حدیث میں آئی ہوں ان کو آپ کیسے کمتر اور حقیر سمجھ سکتے ہیں ، جن کو اللہ نے امامت کے مصلّے پر آگے کھڑا کیا ہو انہیں آپ کیسے پچھلی صف میں لا سکتے ہیں اور جنہیں اللہ نے اپنے دین کی آبیاری کے لئے چنا ہو انہیں آپ کیسے جاہل و بے پرواہ سمجھ سکتے ہیں۔