شملہ 31مئی:ہماچل پردیش کے چمبا میں ایک سڑک حادثے میں 8 افراد ہلاک ہو گئے۔ حکام کے مطابق ایک گاڑی تقریباً 500 میٹر گہری کھائی میں جا گری، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار تمام افراد کی موت ہوگئی ۔ یہ حادثہ بیراگڑھ-سچ پاس-کلر روڈ پر جمعہ کی رات پیش آیا، تاہم مقامی لوگوں کو اس واقعے کی اطلاع ہفتہ کی شام کو ملی۔ چمبا کے چُراہا اسمبلی حلقے سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے رکن اسمبلی ہہ ہنس راج نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا لیکن کھائی گہری ہونے اور خراب موسم کی وجہ سے لاشیں نکالنا ممکن نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق حادثہ انتہائی دشوار گزار علاقے میں ہوا، جہاں مواصلاتی سگنل بھی دستیاب نہیں تھے، جس سے امدادی کارروائیوں میں مزید مشکلات پیش آرہی ہیں ۔ پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر دو بچوں سمیت8 سیاح اور ایک ڈرائیور لاپتا قرار دیے گئے تھے۔ یہ سیاح کولکاتا اور بنگلورو سے سیر و تفریح کے لیے ہماچل پردیش آئے ہوئے تھے۔ حکام کو شبہ تھا کہ سچ پاس-جوت روٹ پر تقریباً 500 فٹ گہری کھائی میں ان کی گاڑی حادثے کا شکار ہو گئی ہے اور بعد ازاں یہ خدشہ درست ثابت ہوا۔
بتایا جا رہا ہے کہ تمام سیاح جمعہ کے روز ڈلہوزی سے برف باری کا نظارہ کرنے کے لیے نکلے تھے۔ رات گئے ان کا اپنے اہل خانہ سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ بعد میں سرچ آپریشن کے دوران کھائی میں گری ہوئی گاڑی کا سراغ ملا، جس سے حادثے کی تصدیق ہوئی۔چمبا کےپولیس سپرنٹنڈنٹ وجے سکلانی نے حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ جس مقام پر یہ حادثہ پیش آیا، وہ ہماچل پردیش کے سب سے دشوار گزار علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں واقع سچ پاس سال کے تقریباً سات سے آٹھ ماہ تک برف باری کے باعث بند رہتا ہے اور صرف گرمیوں کے موسم میں کھولا جاتا ہے۔ حال ہی میں سچ پاس روڈ کو ٹریفک کے لیے کھولا گیا تھا۔رکن اسمبلی ہنس راج نے بتایا کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم شدید ڈھلوان، خراب موسم اور دشوار گزار راستوں کے باعث لاشوں کو نکالنا ممکن نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق ریسکیو آپریشن اتوار کی صبح دوبارہ شروع کیا جائے گا۔









