(ناگپور ،کامٹی)30؍مئی:(پریس ریلیز) آ ل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے ایک گراں قدر مضمون “دینی مدارس: خوگر حمد سے شکوہ بھی ذرا سن لے!” تحریر کیا ہے ،جس میں انہوں نے دینی مدارس میں پائی جانے والی بے ضابطگیوں کی نشان دہی کی ہے۔ اس مضمون پر غور و خوض کرنے نیز اس کے مختلف نکات کو زیر عمل لانے کے لیے ایک مذاکرہ کا انعقاد کامٹی کی خلیل اللہ لائبریری میں مورخہ 17 مئی ،رات نو بجے رکھا گیا تھا۔ پروگرام کا آ غاز کرتے ہوئے ناظم جلسہ کمال اختر سلام سر نے مولانا موصوف کے مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مدارس اسلامیہ کے قائم کرنے اور انتظام میں حد درجہ بے اعتدالی پائی جاتی ہے،نیز جب تک اُن کے انتظام و انصرام کو ٹھیک نہیں کیا جاتا ، امت مسلمہ کو ان سے خاطر خواہ فائدہ نہیں مل سکے گا۔ ضمیر رشیدی نے کہا کہ جب ہم دنیا کا کام بے ڈھنگے طریقے سے نہیں کرتے، تو دین کا کام کیوں بے ڈھنگے طریقے سے کرتے ہیں؟ ایڈوکیٹ لئیق حسین سر نے کہا کہ اپنے ذاتی وسائل کو ہر شخص نہایت درست طور پر استعمال کرتا ہے، مگر قوم و ملت کے وسائل کو استعمال کرنے میں ہم لوگ کمال احتیاط نہیں برتتے۔مہمان خصوصی جناب یوسف النبی صاحب (ایزل فاؤنڈیشن،ناگپور)نے کہا کہ بے شمار جعلی مدارس چل رہے ہی اور اُن پر نکیل کسنے کی ضرورت ہے۔ ایڈوکیٹ قطب ظفر صاحب نے کہا کہ مدارس کے انتظام و انصرام کے لیے ایک بورڈ کا قیام عمل میں لایا جانا ضروری ہے۔قاری محمود عالم صاحب(قرانک عربک کلاسز ،ناگپور) نے کہا کہ دینی مدارس کی غیر ضروری کثرت ملت اسلامیہ کے کاندھوں پر بوجھ ہیں، اور وہ کسب معاش کے ذرائع نہیں ہیں۔اپنے صدارتی خطبہ میں عالی جناب شاکر الکرم فلاحی صاحب نے کہا ” ارباب مدارس خود اپنا بورڈ تشکیل دیں۔ بورڈ کے ذریعے نئے مدرسوں کو منظوری دی جائے، بورڈ طے کرے گا کہ کسی شہر میں کتنےمدرسے کی حقیقی ضرورت ہے۔ نظم ونسق کی نگرانی، مدرسے کے بیت المال کا آڈٹ، سفراء حضرات کے تصدیق نامے وغیرہ بورڈ سے متعلق ہوں گے۔ اس کے علاوہ بورڈ کو ہیلپ لائن جاری کرنی ہو گی تاکہ بوقت ضرورت سفراء کی تصدیق کی جاسکے اور جعلی چندہ خوروں سے بچا جاسکے۔
نیزمقامی لوگوں سے مشاورت کے بغیر مدارس قائم نہ کیے جائیں۔مکاتب کی کثرت نقصان دہ نہیں ہے ہر محلے میں ایک مکتب ضرور ہونا چاہیے نیز اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ایک بھی بچہ مکتب سے دور و محروم نہ رہے ۔ضرورت پڑے تو محلے کی ضرورت کے پیش نظر ایک سے زیادہ مکاتب ایک ہی محلے میں قائم کیے جاسکتے ہیں۔
مدارس کی کثرت بھی نقصان دہ نہیں ہے بشرطیکہ مقامی طلبہ کے لیے قائم کیے جائیں بیرونی طلبہ سے مدرسے قائم نہ کیے جائیں۔ بعض استثنائی صورتیں بھی ہو سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں اہل محلہ و قریہ اور ذمہ داران مدارس باہمی مشاورت سے اس کو حل کرسکتے ہیں۔
مدرسے کا بیت المال کلیتاً ارباب مدارس کے ہاتھوں میں نہ دیا جائے بلکہ ایک کمیٹی تشکیل دی جائے ۔ کمیٹی میں ان مقامی لوگوں کو رکھا جائے جو مالی معاملات کی سوجھ بوجھ کے ساتھ جرأت ایمانی بھی رکھتے ہوں، تجربہ کار ہوں تاکہ بےجا چشم پوشی سے کام نہ لیں۔ نیز حقیقی ضروریات کی تکمیل میں رکاوٹ بھی نہ بنیں۔ مذکورہ کمیٹی میں حسب ضرورت مدرسے کے بعض ذمہ داروں کو بھی شامل رکھا جائے تاکہ ہم آہنگی اور ربط و ضبط بہتر ہو۔” صدر محترم کی دعا پر جلسہ کا اختتام ہوا۔