برہان پور:(پریس ریلیز) اردو ادب، تہذیب اور سماجی اقدار کے فروغ کے لیے سرگرم معروف تنظیم “اردو گگن سنستھا ممبئی” کے زیرِ اہتمام 23 مئی بروز سنیچر شب 10 بجے حریرپورہ، برہان پور میں ایک پروقار اعزازی مشاعرے کا انعقاد عمل میں آیا۔ تنظیم کے صدر مشیر انصاری نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ “اردو گگن سنستھا گزشتہ کئی برسوں سے ادب، ثقافت اور تعلیم کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہے۔ تنظیم کا ماہانہ ادبی رسالہ” اردو آنگن” تقریباً دس برسوں سے مسلسل ادبی خدمات انجام دے رہا ہے اور نئے لکھنے والوں کو پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔
مشاعرے کی صدارت برہان پور کے معروف استاد شاعر لطیف شاہد نے فرمائی، جبکہ یہ یادگار ادبی نشست خاص طور پر ادیب و سماجی کارکن تنویر رضا برکاتی کے اعزاز میں منعقد کی گئی۔ ایک شام شعرائے مارول کے نام عنوان سے منعقدہ اس مشاعرے میں مارول سے تقریباً 12 اور برہانپور سے 15 شعراء نے شرکت کی۔ نظامت کے فرائض صابر مصطفیٰ آبادی نے بحسن و خوبی انجام دیے۔ اس موقع پر سینئر ادیب و شاعر جمیل اصغر نے اپنے خطاب میں برہان پور کی قدیم ادبی روایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ “برہان پور کی یہ روایت رہی ہے کہ یہاں ہر فنکار اور اہلِ قلم کی ہمیشہ قدر کی جاتی رہی ہے۔ آج کی یہ شام بھی انہی شعراء و ادباء کے نام ہے جو اپنے فن اور ادبی خدمات کے ذریعے معاشرے میں مثبت فضا قائم کر رہے ہیں۔” پروگرام کے ڈائریکٹر طاہر نقاش نے تقریب کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ “یہ اعزاز تنویر رضا برکاتی کی ادبی، سماجی اور تعلیمی خدمات کے اعتراف میں پیش کیا گیا ہے، برکاتی نے اپنی تحریروں، سماجی سرگرمیوں اور ثقافتی خدمات کے ذریعے ایک مثبت شناخت قائم کی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “ادب انسانوں کو جوڑنے کا سب سے خوبصورت ذریعہ ہے۔اس موقع پر برہان پور ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر جناب رنکو ٹانک، جناب مولانا احمد اشرف اور جناب مشیر انصاری کے ہاتھوں تنویر رضا برکاتی کو شال اور یادگاری نشان پیش کرکے اعزاز پیش کیا گیا۔ ساتھ ہی طالب علم حافظ فاروق کے کلام پاک حفظ کرنے پر ان کی دستار بندی کی گئ اور شال کا نذرانہ پیش کیا گیا۔
مشاعرے کے أغاڑ سے قبل شہر ممبئ کی سماجی و ادبی شخصیت و زسالہ گل بوٹے کے مالک و مدیر مرحوم فاروق سید کی ناگہانی موت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ادبی دنیا کا نام قابل تلافی نقصان مانا گیا اور تعزیت پیش کی گئ۔ مشاعرے میں نزاکت علی نزاکت، عادل حسین عادل، اخلاق نظامی، فرحت علی فرحت، صفی محسن، ظفر کلیم ظفر، عبدالسلام ثاقب، سراج منظر، راغب نظامی، مشیر انصاری، مجاز آشنا، نعیم راشد، خلیل انصاری ایڈووکیٹ، خالد انصاری، طاہر نقاش، قمرالدین فلک، نعیم نواز، انور جمیلی، فاروق نور، رشید عنبر، اقبال ظفر، علی آغاز، ظفر پرویز، حارث انصاری اور پروانہ برہان پوری سمیت دیگر شعراء نے اپنے بہترین کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ تقریب میں بڑی تعداد میں ادب نواز حضرات، سماجی شخصیات اور معزز شہری شریک رہے، جن میں شکیل احمد صدیقی، ماسٹر فضل الرحمٰن، ڈاکٹر شکیل احمد انصاری، آصف انصاری، عبداللہ انصاری، ظہیر عباس مومن، رئیس احمد انصاری، اصغر شیخ، انیس انصاری، ابرار احمد، عبدالوسیم شیخ، مشتاق احمد سرپنچ، حمیداللہ ہریوا بھیا، عبدالروف نشتر، عزیر انصاری سمیت دیگر معززین شامل تھے۔
یہ شاندار ادبی تقریب اردو ادب، تہذیبی ہم آہنگی اور ثقافتی یکجہتی کی ایک خوبصورت مثال ثابت ہوئی۔
بقیہ: آر جی پی وی یونیورسٹی کو تین حصوں میں ……
انہوں نے اجین میں نئی یونیورسٹی کے قیام کی تجویز پر بھی سوال اٹھایا کہ اگر اندور زون میں 173 کالجز ہونے کے باوجود محض 38 کالجز والے اجین کو ہی کیوں ترجیح دی جا رہی ہے؟کوتوال نے ایک اخبار میں 16 مئی 2026 کو شائع ہونے والی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسی طرح میڈیکل یونیورسٹی کی تقسیم کا معاملہ بھی اضافی اخراجات کی وجہ سے ٹال دیا گیا تھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ہندوستان کی 21 ریاستوں میں صرف ایک ایک تکنیکی یونیورسٹی کام کر رہی ہے، تو مدھیہ پردیش میں اسے تین حصوں میں تقسیم کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس نقصان دہ تجویز کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔









