لکھنو22مئی: الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش میں زور آور شخصیات کو جاری کیے گئے اسلحہ لائسنس کے معاملے پر سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے مکمل جانکاری طلب کر لی ہے۔ عدالت نے برج بھوشن شرن سنگھ، راجا بھیا، دھننجے سنگھ، سشیل سنگھ، ونیت سنگھ سمیت 19 افراد کو جاری اسلحہ لائسنس کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ جسٹس ونود دیواکر کی بنچ نے ریاستی حکومت اور تمام اضلاع کے پولیس حکام سے اسلحہ لائسنس کے غلط استعمال، مجرمانہ پس منظر رکھنے والے افراد کو لائسنس جاری کرنے اور عوامی مقامات پر ہتھیاروں کی نمائش کے معاملے پر تفصیلی جواب مانگا ہے۔ عدالت نے مجرمانہ مقدمات کا سامنا کرنے والے تمام لائسنس یافتگان کے درست پتے، ان پر درج مقدمات، لائسنس سے متعلق جانکاری اور سکیورٹی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ یہ حکم سنت کبیر نگر کے رہائشی جے شنکر کی عرضی پر جاری کیا گیا ہے۔ عدالت اسلحہ کلچر کو لے کر تشویش کا اظہار کر چکی ہے اور اسلحہ لائسنس جاری کرنے، ان کی تجدید اور قواعد کی خلاف ورزیوں سے متعلق معلومات طلب کر چکی ہے۔ اتر پردیش حکومت نے پہلے عدالت کو بتایا تھا کہ پوری ریاست میں دس لاکھ سے زیادہ اسلحہ لائسنس موجود ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 6062 ایسے لائسنس یافتگان ہیں جن پر دو یا اس سے زیادہ مجرمانہ مقدمات درج ہیں۔ اس جانکاری کے سامنے آنے کے بعد عدالت نے حیرت کا اظہار کیا تھا۔ عدالت نے ان زور آور شخصیات کی مجرمانہ تفصیلات بھی طلب کی ہیں جن کے نام پہلے سرکاری حلف ناموں میں ظاہر نہیں کیے گئے تھے۔ اس کے ساتھ ان افراد کو دی گئی سرکاری سکیورٹی کا مکمل بیورہ بھی مانگا گیا ہے۔