نئی دہلی 11مئی: ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس جیسے کورسز میں داخلہ دلانے والا ملک کا میڈیکل داخلہ امتحان ’نیٹ یو جی‘ پیپر لیک کے شبہ کے باعث 2024 کے بعد ایک بار پھر تنازعات کے گھیرے میں ہے۔ راجستھان پولیس کے اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) کے انکشاف کے بعد نیٹ یو جی 2026 امتحان کے پیپر لیک ہونے کا شک مزید گہرا ہو گیا ہے۔ اب اس معاملے پر کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پرینکا گاندھی لکھتی ہیں کہ ’’ایک بار پھر سے نیٹ یوجی کے امتحان میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ بی جے پی حکومت میں گزشتہ کئی سال سے امتحانات میں پھیلی بدعنوانی ملک کے نوجوانوں سے ان کا مستقبل چھین رہا ہے۔ اس مرتبہ بھی تقریباً 23 لاکھ طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔‘‘ پرینکا گاندھی ’ایکس‘ پوسٹ پر مزید لکھتی ہیں کہ ’’نیٹ جیسے امتحانات کے لیے بچے جی جان سے محنت کرتے ہیں۔ والدین اپنا سب کچھ داؤ پر لگاتے ہیں تاکہ بچوں کو مستقبل بن سکے۔ لیکن ہر امتحان بدعنوانی کا شکار ہو جاتا ہے۔ پارلیمنٹ میں پیپر لیک کے خلاف لائے گئے مبینہ سخت قانون کا کیا فائدہ ہوا اگر زمینی سطح پر وہی بدعنوانی جاری ہے؟‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’وزیر اعظم جی ملک کے نوجوانوں کے تئیں جوابدہ ہیں۔ نوجوانوں کے مستقبل کو برباد کرنے کا یہ سلسلہ کب تک چلے گا۔‘‘









