نئی دہلی4مئی: سپریم کورٹ نے پیر کے روز آدھار کارڈ جاری کرنے کے عمل کو مزید سخت بنانے سے متعلق ایک مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت سے انکار کر دیا اور عرضی گزار کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی مانگ حکومت کے متعلقہ محکمے کے سامنے رکھیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس نوعیت کے معاملات بنیادی طور پر پالیسی سے جڑے ہوتے ہیں اور ان پر فیصلہ سازی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔ یہ عرضی وکیل اشونی اپادھیائے کی جانب سے داخل کی گئی تھی، جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ آدھار کارڈ کے اجرا کے موجودہ قواعد میں تبدیلی ضروری ہے تاکہ نظام میں شفافیت اور سختی کو یقینی بنایا جا سکے۔ عرضی میں تجویز پیش کی گئی تھی کہ آدھار کارڈ صرف 6 سال تک کی عمر کے بچوں کو جاری کیا جائے، جبکہ اس کے بعد بالغ افراد کے لیے ایک باقاعدہ اور سخت طریقہ کار مقرر کیا جائے۔ عرضی گزار نے یہ بھی مانگ کی تھی کہ 6 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو آدھار جاری کرنے سے پہلے سب ڈویژنل مجسٹریٹ یا تحصیل دار کے دفتر سے اجازت حاصل کرنا لازمی قرار دیا جائے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف عمل میں جوابدہی بڑھے گی بلکہ فرضی دستاویزات کے استعمال کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔ اشونی اپادھیائے نے عدالت میں دلیل دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں تقریباً 144 کروڑ آدھار کارڈ ہولڈرز موجود ہیں اور لگ بھگ 99 فیصد آبادی کے پاس آدھار دستیاب ہے۔ مزید یہ کہ قریب 55 کروڑ جن دھن کھاتے آدھار سے منسلک ہیں، اس لیے اس نظام کی مضبوطی اور درستگی بے حد اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اجرا کے طریقہ کار میں مناسب سختی نہ لائی گئی تو مستقبل میں اس کے غلط استعمال کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔









