بھوپال 4مئی: وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ گوالیار ایک مقدس سرزمین ہے، جہاں قدیم زمانے سے گاؤ نسل اور مویشی پروری کی مضبوط روایت رہی ہے۔ ہم مویشی پروری اور ڈیری کو دیہی معیشت کے مضبوط ستون کے طور پر تیار کر رہے ہیں۔ دودھ کا کاروبار دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور یہ مویشی پالنے والوں کی معاشی خود کفالت کا اہم ذریعہ ہے۔ حکومت ہر کسان اور مویشی پالنے والے کو خوشحال بنانے کے لیے پْرعزم ہے۔ ڈیری سیکٹر میں جدت اور سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لیے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ نوجوانوں کو دیہات میں ہی روزگار فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش کو دودھ کی پیداوار میں بھی سرفہرست ریاست بنانا ہمارا ہدف ہے۔ مویشی پالنے والوں اور دودھ پیدا کرنے والوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے مشن موڈ میں کام کیا جا رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، بہتر انتظام اور سب کی شمولیت کے ذریعے ریاست کو ملک کا ‘‘ملک کیپٹل’’ بنایا جائے گا، جس میں گوالیار اہم کردار ادا کرے گا۔وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو گوالیار میں ریاستی سطح کے مویشی پالک و دودھ پیدا کنندہ کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے چراغ روشن کر کے پروگرام کا آغاز کیا اور محکمہ مویشی پروری و ڈیری ترقی کی مختلف اسکیموں کے تحت مستحقین میں فوائد تقسیم کیے۔ ساتھ ہی تمام حاضرین کو مویشی پروری اور دودھ کی پیداوار سے جڑنے کا عہد بھی دلایا۔انہوں نے اعلان کیا کہ گوالیار میں جانوروں کے لیے کیئر اینڈ ویلنَس سینٹر قائم کیا جائے گا، جانوروں کے صحت مراکز کو اپ گریڈ کیا جائے گا اور ڈبرا میں نیا ویٹرنری اسپتال کھولا جائے گا۔ کانفرنس میں مویشی پالکوں کی کامیابی کی کہانیاں اور ویڈیو فلم بھی پیش کی گئی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ مویشی پالک ریاست کی اقتصادی ترقی کی بنیاد ہیں۔ کسان بہبود سال میں حکومت مویشی پالکوں اور دودھ پیدا کرنے والوں کی فلاح کے لیے بھرپور اقدامات کرے گی۔ حکومت گائے ہو یا بھینس، تمام دودھ خریدے گی اور مناسب قیمت بھی دلائے گی۔ انہوں نے مویشی پالکوں سے اپیل کی کہ وہ صحت مند اور اعلیٰ نسل کے جانور پالیں اور ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کامدھینو اسکیم سے فائدہ اٹھائیں۔
انہوں نے بتایا کہ گائے کے چارے کے لیے دی جانے والی امداد 20 روپے سے بڑھا کر 40 روپے فی جانور کر دی گئی ہے۔ ہر بلاک میں ایک ‘‘ورنداون گاؤں’’ بنایا جا رہا ہے، جس سے دودھ کی پیداوار اور دیہی روزگار کو فروغ ملے گا۔ اگر ترقیاتی کاموں کے لیے کسانوں کی زمین لی جائے گی تو انہیں چار گنا معاوضہ دیا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ڈیری سیکٹر دیہی ترقی کا اہم ستون ہے۔ حکومت دودھ کی پیداوار بڑھانے کے لیے نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ نئی گاؤشالائیں قائم کی جا رہی ہیں اور صرف 25 گایوں کی گاؤشالا بنانے پر بھی 10 لاکھ روپے فی یونٹ سبسڈی دی جا رہی ہے۔









