نئی دہلی 20اپریل:2020 کے دہلی فسادات معاملہ میں سپریم کورٹ نے عمر خالد کی نظرثانی کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ رواں سال 5 جنوری کو سپریم کورٹ نے فسادات کی سازش کے معاملے میں عمر خالد کے کردار کو مرکزی قرار دیتے ہوئے انہیں ضمانت پر رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ عمر خالد نے اسی حکم پر دوبارہ غور کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن جسٹس اروند کمار اور این وی انجاریہ کے بنچ نے اس سے انکار کر دیا ہے۔واضح رہے کہ اسی بنچ نے رواں سال 5 جنوری کو 2020 کے دہلی فسادات کے ملزم عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت پر رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ عمر اور شرجیل نے 5 سال سے زیادہ عرصے تک حراست میں رہنے کا حوالہ دیتے ہوئے ضمانت طلب کی تھی۔ لیکن عدالت نے اس معاملے میں ان کے کردار کو مرکزی قرار دیتے ہوئے ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔ حالانکہ عدالت نے ان دونوں کے ساتھ درخواست دائر کرنے والے باقی 5 ملزمان کو ضمانت دے دی تھی۔سپریم کورٹ سے جن لوگوں کو ضمانت ملی تھی وہ ہیں گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفاء الرحمن، محمد سلیم اور شاداب احمد۔ ان لوگوں نے بھی 5 سال سے زیادہ عرصے سے جیل میں ہونے کی دلیل دی تھی۔ جسٹس اروند کمار اور این وی انجاریہ کے بنچ نے فسادات میں ان کے کردار کو شرجیل اور عمر کے مقابلے کم درجے کا تصور کیا۔ اسی بنیاد پر انہیں رعایت دے دی گئی۔ان تمام ملزمان پر آئی پی سی اور آرمس ایکٹ جیسے قوانین کے علاوہ یو اے پی اے (غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کا ایکٹ) کی دفعات بھی لگی ہیں۔
یو اے پی اے کی دفعہ 43ڈی(5) ضمانت کے لیے سخت شرائط عائد کرتی ہے۔ اس کے تحت ملزم کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ اس پر لگائے گئے الزامات پہلی نظر میں غلط ہیں۔ عدالت نے 5 افراد کو بغیر مقدمہ چلے طویل عرصے سے جیل میں ہونے کی بنیاد پر رعایت دے دی، لیکن عمر اور شرجیل کے معاملے میں یو اے پی اے کی دفعہ 43ڈی(5) کو نافذ کیا۔









