نئی دہلی17اپریل: کانگریس رہنما راہل گاندھی نے لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق جاری بحث کے دوران حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بل خواتین کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنانے کے بجائے انتخابی حلقوں کی حدبندی کے ذریعے سیاسی نقشہ تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس سے متعلق لائے گئے ترمیمی بل واپس لیے جائیں اور 2023 کا اصل خواتین ریزرویشن بل دوبارہ پیش کیا جائے، جس کی حمایت اپوزیشن فوری طور پر کرنے کو تیار ہے۔ اپنی تقریر کے دوران راہل گاندھی نے ایک ذاتی واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ بچپن میں انہیں اندھیرے اور کتوں سے بہت ڈر لگتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک رات ان کی دادی انہیں باہر لے گئیں اور کچھ دیر کے لیے اندھیرے میں اکیلا چھوڑ دیا۔ اس وقت ان کے ذہن میں مختلف خوفناک خیالات آئے لیکن جب دادی واپس آئیں تو انہوں نے سمجھایا کہ اصل میں وہ اپنے ہی ذہن اور تخیل سے ڈر رہے تھے۔ راہل گاندھی کے مطابق ان کی دادی نے انہیں سکھایا کہ سچائی تک پہنچنے کے لیے خوف کا سامنا کرنا ضروری ہے، کیونکہ اکثر سچ اندھیرے میں چھپا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا ایک اہم سیاسی سبق تھا، جسے وہ آج بہتر طور پر سمجھ پا رہے ہیں۔ انہوں نے “ستیم شیوَم سُندرَم” اور سچ و اہنسا کی تعلیمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کبھی کبھی سچ کڑوا ہوتا ہے، مگر اس سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ اسی تناظر میں انہوں نے موجودہ خواتین ریزرویشن بل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسے خواتین کے حق میں ایک بڑے قدم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کے نفاذ کو حدبندی کے عمل سے جوڑ دیا گیا ہے، جس سے اس کی نیت پر سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ قانون خواتین کو فوری طور پر فائدہ نہیں پہنچائے گا بلکہ ایک طویل اور پیچیدہ عمل کے ذریعے اسے مؤخر کیا جا رہا ہے۔