بھوپال:17؍اپریل:وزیر خوراک ، سول سپلائی اور صارفین تحفظ مسٹر گووند سنگھ راجپوت نے بتایا ہے کہ کم از کم معاون قیمت پر ابھی تک ایک لاکھ 30ہزار655کسانوں سے57لاکھ13ہزار640کوئنٹل گیہوں کی خریدی کی جا چکی ہے۔ ابھی تک 4لاکھ 22ہزار848کسانوں کے ذریعہ ایک کروڑ 82لاکھ 96ہزار 810کوئنٹل گیہوں کی فروخت کیلئے سلاٹ بک کئے جا چکے ہیں۔ کسان گیہوں فروخت کیلئے 30اپریل تک سلاٹ بک کر سکتے ہیں ۔ خریدی کیلئے3171حصولیابی مرکز بنائے گئے ہیں۔ گیہوں کی خریداری دفتری دنوں میں ہوتی ہے ۔
حصولیابی مرکز کی صلاحیت کے مطابق پیداوار کی تول کی جا سکے اور زیادی سے زیادہ کسانوں سے حصولیابی کی جا سکے، اس کیلئے یومیہ فی حصولیابی مرکز پر گیہوں کی فروخت کیلئے سلاٹ بکنگ کی صلاحیت 1000کوئنٹل سے بڑھ کر 1500کوئنٹل کی گئی ہے ۔
وزیر مسٹر راجپوت نے بتایا ہے کہ جن اضلاع میں گیہوں حصولیابی کی کارروائی شروع ہو گئی ہے ، وہاں گیہوں فروخت کی سبھی سہولیات دستیاب کروائی گئی ہے ۔ حصولیابی مراکز میں سایہ دار مقام میں بیٹھنے اور آبنوشی کی مناسب سہولت دستیاب کروائی گئی ہے ۔ مرکز میں باردانے ، تول کانٹے سلائی مشین، کمپیوٹر ، انٹرنیٹ، کوالٹی جانچ آلات اور حصولیابی کی صاف – صفائی کیلئے پنکھا ، چھگنا وغیرہ کا بندوبست بھی یقینی کیاگیاہے۔
وزیر مسٹرراجپوت نے بتایا ہے کہ ربی مارکیٹنگ سال 2026-27میں کسانوں سے 2585 روپے فی کوئنٹل معاون قیمت اور ریاستی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ 40 روپے فی کوئنٹل بونس رقم سمیت 2625 روپے فی کوئنٹل کی شرح سے گیہوں کی خریداری کی جا رہی ہے۔گیہوں کی خریداری کے لیے ضروری بار دانوں (بوریوں) کا انتظام لیا گیا ہے۔ خریدے گئے گیہوں کو محفوظ رکھنے کے لیے جوٹ کی بوریوں کے ساتھ ساتھ پی پی/ایچ ڈی پی بیگز اور جوٹ کے بھرتی بار دانوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔معاون قیمت پر خریدے گئے گیہوں کے محفوظ ذخیرہ کے لیے مناسب انتظام کیا گیا ہے۔ حصولیابی گیہوںمیں سے 30 لاکھ 10ہزار 480کوئنٹل گیہوں کی نقل و حمل کی جا چکی ہے۔ریاست میں اس سال گیہوں کی خریداری کے لیے ریکارڈ 19 لاکھ 4 ہزار کسانوں نے رجسٹریشن کروایا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 3 لاکھ 60 ہزار زیادہ ہے۔گزشتہ سال معاون قیمت پر تقریباً 77 لاکھ میٹرک ٹن گیہوں کی خریداری کی گئی تھی۔ اس سال جنگ کی ناموافق صورتحال کے باوجود کسانوں کے مفاد میں حکومت کی جانب سے 78 لاکھ میٹرک ٹن گیہوں کی خریداری کا ہدف رکھا گیا ہے، جو گزشتہ سال سے ایک لاکھ میٹرک ٹن زیادہ ہے۔









