نئی دہلی 16اپریل: مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) تنازعہ کے درمیان سپریم کورٹ نے آرٹیکل 142 کا استعمال کرتے ہوئے اہم حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ نام ہٹانے کے خلاف جن لوگوں کی اپیل پر ٹریبونل فیصلہ دے دے گا، وہ لوگ بنگال انتخاب میں اپنے ووٹ کا استعمال کر سکیں گے۔ سپریم کورٹ نے 34 لاکھ سے زائد زیر التوا اپیلوں کو دیکھتے ہوئے واضح ڈیڈ لائن مقرر کی ہے، تاکہ کوئی بھی اہل ووٹر ووٹ دینے سے محروم نہ رہے۔ ممتا بنرجی نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا استقبال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں سب سے صبر رکھنے کے لیے کہہ رہی تھی۔ آج سپریم کورٹ نے حکم جاری کر دیا ہے۔ اپیل فائل کرنے والوں کی درخواستوں پر ٹریبونل 21 تاریخ تک فیصلہ لے گا اور سپلیمنٹری ووٹر لسٹ 23 اپریل کو پہلے مرحلہ کی ووٹنگ سے قبل شائع کی جائے گی۔ 29 تاریخ کو دوسرے مرحلہ کی ووٹنگ کے لیے بھی یہی طریقہ کار اپنایا جائے گا۔ میں تمام متعلقہ فریق سے گزارش کرتی ہوں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ووٹر لسٹ اسی رات تک بھیج دی جائے۔ میں خوش ہوں اور مجھے عدلیہ پر فخر ہے۔ فیصلہ میری عرضی پر مبنی ہے، مجھے سپریم کورٹ پر فخر ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے مغربی بنگال کے انتخاب کے دوران ایس آئی آر تنازعہ کے پیش نظر شہریوں کے حق رائے دہی کے تحفظ کے لیے آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کیا ہے۔ ووٹر لسٹ سے نام نکالے جانے کے خلاف اعتراضات سے متعلق 34 لاکھ سے زائد اپیلیں زیر التوا ہونے کی وجہ سے، سپریم کورٹ نے ایک واضح ڈیڈ لائن مقرر کر دی ہے۔
تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی اہل ووٹر اپنے جمہوری حق سے محروم نہ رہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق مغربی بنگال میں 23 اپریل کو ہونے والے پہلے مرحلے کے انتخاب کے لیے، جن افراد کی اپیل پر اپیلٹ ٹریبونل 21 اپریل تک فیصلہ سنا دے گا، وہ ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے۔ اسی طرح جن کی اپیل پر اپیلٹ ٹریبونل 27 اپریل تک فیصلہ کر دے گا، وہ 29 اپریل کو ہونے والے دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈال سکیں گے۔”