پٹنہ15اپریل: بہار کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما سمراٹ چودھری نے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے، جس کے بعد ریاست میں سیاسی بیان بازی اور تنقید کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور راشٹریہ جنتا دل کے قومی عاملہ کے صدر تیجسوی یادو نے نئے وزیر اعلیٰ کو مبارکباد دیتے ہوئے ایسا طنز کیا جو سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بن گیا ہے۔ تیجسوی یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ انہیں امید ہے کہ نئے ’منتخب کردہ‘ وزیر اعلیٰ بہار کی ترقی، خوشحالی، امن و امان اور ہمہ جہتی اصلاحات کے لیے مضبوطی کے ساتھ کام کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست کے وقار کو بیرونی دباؤ کے سامنے قربان نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے اس بیان کو سیاسی مبصرین نے ایک سخت تنقید کے طور پر دیکھا ہے، جس میں انہوں نے براہ راست قیادت کے اختیار اور خودمختاری پر سوال اٹھایا ہے۔ تیجسوی یادو نے اپنے بیان میں سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’منتخب وزیر اعلیٰ‘ کو عہدے سے ہٹانے کی ان کی ’منت‘ پوری ہو گئی ہے، اور اسی کے ساتھ سمراٹ چودھری کو ’منتخب‘ وزیر اعلیٰ بننے پر مبارکباد دی۔
ان کے اس جملے نے بہار کی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں اقتدار کی تبدیلی کو مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔









