بھوپال:14؍اپریل:وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ آج بھارت رتن ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی جائے پیدائش پر ان کی جینتی دھوم دھام سے منائی جا رہی ہے۔ بابا صاحب ایسے دور اندیش رہنما تھے، جنہوں نے ایک ہزار سال کی غلامی کی مشکلات کو ختم کرنے اور سماج میں مساوات کے جذبے کو فروغ دینے کے لیے جدوجہد کی تھی۔ بابا صاحب کے تعاون سے ہم سب فخر محسوس کرتے ہیں۔ ہمیں ان کے بنائے ہوئے آئین کے مطابق ہی چلنا چاہیے۔ اس سے بہتر آئین اور کوئی نہیں ہو سکتا۔وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ڈاکٹر امبیڈکر کے ذریعہ خواتین کی برابری اور بااختیاری کے لیے کیے گئے اقدامات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بہنوں کو باپ کی جائیداد میں حق دلانے، طلاق کے وقت معاوضہ اور زچگی کی چھٹی دلانے کے لیے قابل تعریف کام کیا۔ انہوں نے ہمیں ماؤں اور بہنوں کے لیے ‘‘برابر کام، برابر اجرت’’ کا دور اندیش خیال دیا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو منگل کے روز اندور کے ڈاکٹر امبیڈکر نگر (مہو) میں واقع ان کی جائے پیدائش پر منعقدہ جینتی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
لوک سبھا اور اسمبلی میںیقینی ہوگا 33 فیصد ریزرویشن
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ بابا صاحب خواتین کی بااختیاری کے مضبوط حامی تھے۔ خواتین کے احترام اور حقوق کے لیے انہوں نے اپنی کرسی تک چھوڑ دی تھی۔ کم از کم اجرت، کمپنی قانون اور خواتین مزدوروں کے حقوق بھی ہمیں بابا صاحب کی دین ہیں۔ مرکزی حکومت ڈاکٹر امبیڈکر کے نظریات پر چلتے ہوئے خواتین کی بااختیاری کے لیے 21ویں صدی کا سب سے بڑا فیصلہ لینے جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں لوک سبھا میں’’ناری شکتی وندن ایکٹ ‘‘کو مکمل طور پر نافذ کرنے پر بات ہوگی، جس سے خواتین کو لوک سبھا اور اسمبلیوں میں 33 فیصد ریزرویشن ملے گا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خواتین کی فلاح کے لیے ڈاکٹر امبیڈکر نے جو کام کیے، اس کے لیے ملک ہمیشہ انہیں یادکرتا رہے گا۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ بھارت ماتا کی خدمت میں گزارا اور سماج کو آگے بڑھنے کا راستہ دکھایا۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ بھیم جنم بھومی پر آج ہولی-دیوالی جیسا ماحول ہے۔ بابا صاحب کی زندگی سے جڑے تمام 5 پڑاؤ کو ہماری حکومت نے پنچ تیرتھ کے طور پر ترقی دی ہے۔ ذات پات کی عدم مساوات کو ختم کرنے کے لیے بین ذات شادی کرنے پر نو بیاہتا جوڑوں کو ہماری حکومت حوصلہ افزائی رقم کے طور پر 2 لاکھ روپے دے رہی ہے۔ درج فہرست ذات و قبائل کی فلاح کے لیے حکومت نے سالانہ بجٹ کا ایک تہائی حصہ انہیں وقف کیا ہے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے مسٹر انیل گجبھئے اور ڈاکٹر ستیہ بھان میشرام کی جانب سے ڈاکٹر امبیڈکر کی زندگی پر لکھی گئی کتاب “بابا صاحب کی نظر میں سماجی انصاف” کا اجرا کیا۔ وزیر اعلیٰ نے ڈاکٹر سدیپ بھگتدیپ، ڈاکٹر سندیش مادھوراؤ، آنجہانی مسٹر نشانت کائرے، ڈاکٹر مینا گجبھئے سمیت 5 سماجی خدمت گاروں کو “بھیم رتن ایوارڈ 2026سے نوازا۔
وزیر اعلیٰ نے پروگرام میں موجود تمام لوگوں سے “بابا صاحب امر رہیں” کا نعرہ لگوایا۔
مہو کی رکن اسمبلی اور سابق وزیر محترمہ اوشا ٹھاکر نے کہا کہ آج بابا صاحب ڈاکٹر امبیڈکر کی جینتی پر ہم ان کے دکھائے ہوئے راستے پر چلنے کی کوشش کریں، یہی ان کے لیے سچی خراج عقیدت ہوگی۔ ہم سب مل کر عہد کریں کہ زندگی میں کبھی تشدد، چوری، نشہ اور کوئی غلط کام نہیں کریں گے۔ بابا صاحب سماج میں بنیادی تبدیلی کے لیے پْرعزم تھے۔ خواتین کی برابری کے ان کے خیالات کی بنیاد پر ملک کی پارلیمنٹ میں “ناری شکتی وندن ایکٹ” کے ذریعہ اسمبلی اور لوک سبھا کی 33 فیصد نشستیں خواتین کے لیے محفوظ کرنے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے۔
سینئر مفکر مسٹر آلوک کمار نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر نہایت اعلیٰ تعلیم یافتہ شخصیت تھے، اس کے باوجود ان کے ساتھ اْس وقت کے سماج میں امتیاز برتا گیا۔ جب آئین لکھنے کی باری آئی تو مہاتما گاندھی جی نے پنڈت جواہر لال نہرو کو مشورہ دیا تھا کہ ڈرافٹنگ کمیٹی کا چیئرمین بننے کے لیے صرف ایک ہی شخص اہل ہے اور وہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر ہیں۔ آئین کی ڈرافٹنگ کمیٹی کے چیئرمین کی ذمہ داری ڈاکٹر امبیڈکر کو ان کی صلاحیت کی بنیاد پر ہی ملی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر نے سماج کو بھائی چارہ دیا۔ انہوں نے مساوات کا عزم کیا تھا۔ ہندوستانی آئین کی دفعہ 17 میں لکھا گیا کہ اچھوت پن (چھوا چھوت) کو ختم کیا جاتا ہے اور سماج کے ایک بڑے محروم طبقے کو اس ناانصافی سے نجات ملی۔ چھوا چھوت اور امتیاز ہندوستانی ثقافت کی کبھی بنیاد نہیں رہے۔ ہمیں سب کو ہندوستان کے آئین میں درج اصولوں اور ضوابط کی پابندی کرنی چاہیے۔ سب کو برابر مانتے ہوئے ملک کی ترقی کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سماج کے ہر طبقے کو سماجی، معاشی اور تعلیمی طور پر خوشحال بنانا ہے۔
پروگرام سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پروزیر آبی وسائل مسٹر تلسی رام سیلاوٹ، مرکزی وزیر مملکت برائے خواتین و اطفال شریمتی ساوتری ٹھاکر، مقامی دھمّہ ادارہ کے صدر مسٹر دھمّہ دیپ مہاتھیرو اور دیگر مقامی عوامی نمائندوں سمیت بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔
وزیر ِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے پیروکاروں کے ساتھ مل کر اجتماعی کھانا کھایا اور ہم آہنگی کا پیغام دیا
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے بھارت رتن ڈاکٹر بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کی جینتی کے موقع پر جائے پیدائش کے یادگاری مقام پر منعقد پروگرام میں مختلف ریاستوں سے آئے پیروکاروں کے ساتھ مل کر اجتماعی کھانا کھایا اور سماجی ہم آہنگی کا متاثر کن پیغام دیا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اس موقع پر پورے ملک سے آئے زائرین کے ساتھ قطار میں بیٹھ کر کھانا کھایا۔ انہوں نے کہا کہ بابا صاحب امبیڈکر کی زندگی ہمیں مساوات، بھائی چارے اور سماجی انصاف کے راستے پر چلنے کی ترغیب دیتی ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ امبیڈکر جینتی صرف ایک تہوار نہیں بلکہ سماج میں ہم آہنگی اور اتحاد کو مضبوط بنانے کا موقع ہے۔ اس طرح کا اجتماعی کھانا سماج میں امتیاز کو ختم کرنے اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ ہمیں بابا صاحب امبیڈکر کے سماجی ہم آہنگی کے پیغام کو اپنی زندگی میں اپنانا چاہیے۔ پروگرام میں بڑی تعداد میں پیروکار موجود رہے اور سب نے مل کر بابا صاحب کے خیالات کو اپنانے کا عہد کیا۔
بابا صاحب کے یادگار مقام پر پہنچ کر خراج عقیدت پیش کیا
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو منگل کو بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی جینتی پر ڈاکٹر امبیڈکر نگر (مہو) میں واقع بابا صاحب امبیڈکر کی جائے پیدائش پر بنے شاندار یادگار مقام پر پہنچے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ڈاکٹر امبیڈکر کے مجسمے پر پھول چڑھا کر خراجِ عقیدت پیش کیا اور یادگار کا معائنہ بھی کیا۔ انہوں نے وہاں موجود بابا صاحب کے استھی کلش کے درشن کیے اور خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے بھنتے شری دھرم شیل کی مورتی پر بھی پھول چڑھائے۔ ڈاکٹر امبیڈکر نگر مہو میں ریاستی حکومت نے میزبان بن کر آنے والے زائرین کی مہمانوں کی طرح خاطر مدارت کی۔ زائرین اور بھنتوں کے قیام کا انتظام کیا گیا۔ زائرین کے لیے مفت کھانے اور ٹھنڈے پانی کی مناسب سہولت فراہم کی گئی۔