بھوپال، 13 اپریل : سابق ایم ایل اے راجندر بھارتی نے آج ایک پریس کانفرنس کے دوران سابق وزیر نروتم مشرا پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے پورے معاملے کی سی بی آئی سے جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس موقع پر سابق وزیر پی سی شرما سمیت کئی سینئر کانگریس رہنما موجود تھے۔ راجندر بھارتی نے بتایا کہ 2008 سے ہی نروتم مشرا کے خلاف انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور ‘پیڈ نیوز کی شکایات درج کرانے کی پاداش میں انہیں، ان کے خاندان اور کانگریس کارکنوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے کاروبار بند کروائے گئے اور سازش کے تحت جھوٹے مقدمات درج کرائے گئے۔
راجندر بھارتی نے انکشاف کیا کہ 2013 میں ان پر شکایت واپس لینے کے لیے کروڑوں روپے کا لالچ دینے کے ساتھ ساتھ سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں بھی دی گئی تھیں۔ انہوں نے زمین ترقی بینک (بھومی وکاس بینک) سے متعلق ایک معاملے میں بھی سیاسی دباؤ کے ذریعے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور قانونی دفعات کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔ بھارتی کے مطابق، سپریم کورٹ کے دوبارہ جانچ کے احکامات کے باوجود گواہوں کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے اور عدالتی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے وزیر وشواس سارنگ کے گھوٹالے سے متعلق بیان کو بھی بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ان سے عوامی سطح پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا، بصورتِ دیگر ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کرنے کا انتباہ دیا ہے۔
سابق وزیر پی سی شرما نے اس موقع پر بی جے پی حکومت پر دوہرے معیار کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ راتوں رات اسمبلی کھول کر کانگریس ایم ایل اے کی رکنیت منسوخ کرنا غیر آئینی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جہاں نروتم مشرا جیسے بی جے پی لیڈروں پر مقدمات کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہوتی، وہیں کانگریس لیڈروں کے خلاف فوری اور یکطرفہ فیصلے لیے جاتے ہیں۔ پی سی شرما نے نرملا سپرے اور پرہلاد لودھی جیسے معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کا رویہ مکمل طور پر غیر جمہوری ہے۔ راجندر بھارتی نے آخر میں زور دیا کہ سچائی سامنے لانے کے لیے اس پورے معاملے کی شفاف تحقیقات صرف سی بی آئی ہی کر سکتی ہے۔









