پٹنہ 12اپریل: بہار کی سیاست اس وقت ایک اہم موڑ پر ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار 14 تاریخ تک استعفیٰ دے سکتے ہیں جس کے بعد ریاست میں اقتدار کی تبدیلی تقریباً یقینی سمجھی جا رہی ہے۔ اس ممکنہ تبدیلی کے ساتھ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر بہار کی ذمہ داری کون سنبھالے گا۔ سیاسی گلیارے میں قیاس آرائیاں ہیں کہ وزیر اعلیٰ کا عہدہ بی جے پی کے پاس جا سکتا ہے، جب کہ جے ڈی یو کو نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے پر اکتفا کرنا پڑ سکتا ہے۔ نتیجتاً بی جے پی کے اندر پارٹی کے چہرے کو لے کر گفت وشنید اور مشاورت تیز ہو گئی ہے۔ سب سے آگے سمراٹ چودھری ہیں، جنہیں پارٹی میں او بی سی کی ایک مضبوط شخصیت ماناجاتا ہے اور تنظیم میں ان کی مضبوط گرفت ہے لیکن کیا بی جے پی دیگر ریاستوں کی طرح بہار میں بھی حیران کن فیصلہ کرے گی یا سمراٹ کو اگلا وزیر اعلیٰ بنایا جائے گا،سسپنس برقرار ہے۔
گزشتہ دو دنوں سے بی جے پی کے قومی صدر نتن نوین اور بہار کے انچارج ونود تاوڑے بہار بی جے پی کے اہم لیڈروں سے رابطہ کر رہے ہیں اور ان سے ان پٹ لے رہے ہیں۔ جمعہ کو، تاوڑے نے دونوں نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری اور وجے سنہا سے ملاقات کی۔ اس کے بعد انہوں نے مرکزی وزیر مملکت برائے امور داخلہ نتیا نند رائے سے ملاقات کی۔ بہار بی جے پی کے صدر سنجے سراوگی سمیت کئی اہم لیڈروں سے رائے مانگی گئی۔ اس کے بعد کل رات امت شاہ کے ساتھ ملاقات ہوئی، جس میں ہر پہلو پر تبادلہ خیال کیا گیا۔









