جبلپور (بھیڑاگھاٹ):12؍اپریل: (پریس ریلیز)آل انڈیا پنچایت پریشد کا 68واں یومِ تاسیس بھیڑاگھاٹ، جبلپور میں خوشی و جوش اور مستقبل کے عزم کے ساتھ منعقد ہوا۔ اس پروگرام کا اہتمام آل انڈیا پنچایت پریشد اور مدھیہ پردیش ریاستی پنچایت پریشد کے اشتراک سے کیا گیا، جس کی صدارت ریاستی صدر اشوک سنگھ سینگر نے کی۔تقریب کے دوران “73ویں آئینی ترمیم کے بعد سہ سطحی پنچایتی راج اداروں کی کامیابیاں اور پریشد کا کردار” کے موضوع پر ایک سیمینار بھی منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر مرکزی مقرر شیتلا شنکر وجے مشرا نے کہا کہ پریشد کا قیام 12 اپریل 1958 کو ہوا تھا اور آج اسے 68 سال مکمل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے پنچایتی راج اداروں کو مضبوط بنانے میں پریشد کے اہم کردار پر روشنی ڈالی۔انہوں نے بتایا کہ 1993 میں نافذ ہونے والی 73ویں آئینی ترمیم کے بعد پنچایتوں کو آئینی اختیارات حاصل ہوئے، جس سے پورے ملک میں سہ سطحی پنچایتی نظام مضبوط ہوا۔ انہوں نے زور دیا کہ دیہات کو خود کفیل بنانے کے لیے صرف نعرے کافی نہیں بلکہ وسائل کی فراہمی بھی ضروری ہے۔
پروگرام میں پنچایتوں کے استحکام، گرام سبھاؤں کو مزید اختیارات دینے، جدید سہولیات سے آراستہ پنچایت بھون کی تعمیر اور بہترین کارکردگی دکھانے والے سرپنچوں کو اعزاز دینے جیسے موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ پریشد نے تجویز پیش کی کہ 24 اپریل کو یومِ پنچایت کے موقع پر نمایاں نمائندوں کو اعزاز سے نوازا جائے۔
مہمانِ خصوصی کے طور پر پریشد کے صدر اشوک سنگھ جادون نے “چلو گاؤں کی طرف” مہم کے تحت ملک بھر میں پنچایتوں کو مضبوط بنانے کے لیے پروگرام منعقد کرنے کی بات کہی۔اس موقع پر ریاست کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے پنچایت نمائندوں، عہدیداران اور خواتین سرپنچوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پروگرام کی نظامت شیو پرتاپ پٹیل نے کی۔ تقریب میں بڑی تعداد میں نمائندگان نے شرکت کی اور پنچایتوں کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔