نئی دہلی 9اپریل: اکثر ’ای پی ایف او‘ سروسز کے متعلق ملازمین کی شکایت دیکھی گئی ہے کہ انہیں کلیم (دعویٰ) کرنے میں تاخیر ہوتی ہے، زیادہ پیپر ورک (کاغذی کارروائی) اور کمپنی پر زیادہ انحصار کرنا پڑتا ہے۔ ان تمام پریشانیوں کو ختم کرنے کیے لیے حکومت ای پی ایف او 3.0 لے کر آ رہی ہے، جو جلد ہی لانچ ہو سکتا ہے، جس کے بعد پی ایف تک رسائی مکمل طور پر آسان ہو جائے گی۔ آپ کا کلیم فوری طور پر سیٹل ہوگا، پیپر ورک بہت کم ہو جائے گا اور آجر پر انحصار بھی کم ہو جائے گا۔ آپ آسانی سے اے ٹی ایم اور یو پی آئی کی مدد سے پیسے نکال سکتے ہیں۔ ای پی ایف او 3.0 خاص طور پر ’ایمپلائز پراویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن‘ کے سسٹم کا ایک ڈیجیٹل اپ ڈیٹ ہے، جو مینوئل کام کو کم کرنے اور لاکھوں صارفین کے لیے سروس کی فراہمی میں بہتری لانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ آنے والے مہینوں میں اس کو مکمل طور پر فعال کیا جا سکتا ہے، جس میں کئی سہولیات پہلے ہی شروع کی جا چکی ہیں اور دیگر پر کام جاری ہے۔ سب سے بڑی تبدیلیوں میں سے ایک ’کلیم سیٹلمنٹ‘ کے حوالے سے ہے۔ ای پی ایف او نے کلیم کے آٹو سیٹلمنٹ کی توسیع کی ہے اور اس کی حد بڑھا کر 5 لاکھ روپے کر دی ہے۔ وِڈرال ریکویسٹ کا ایک بڑا حصہ اب آٹومیٹک طور پر اپروو کیا جا رہا ہے، جس سے وقت کی بچت ہو رہی ہے اور مینوئل اپروول کی ضرورت کم ہو رہی ہے۔
اس تبدیلی سے آجروں پر انحصار بھی کم ہو رہا ہے۔ پہلے ملازمت بدلنے پر پی ایف اکاؤنٹ میں پیسہ ٹرانسفر کرنے کے لیے کمپنی کی منظوری ضروری ہوتی تھی، جس کی وجہ سے تاخیر ہوتی تھی۔ نئے سسٹم کے تحت ایسے اکاؤنٹس جن کے ’کے وائی سی‘ ہو چکے ہیں، کے لیے ایسے کئی ٹرانسفر آٹومیٹک طریقے سے کیے جا رہے ہیں، جس سے ملازمین کو اپنے فنڈ آسانی سے ٹرانسفر کرنے کی سہولت مل رہی ہے۔









