بارسلونا/زیورخ،8 اپریل (یواین آئی ) عالمی فٹ بال کی باڈی فیفا نے ہسپانوی فٹ بال فیڈریشن کے خلاف باضابطہ طور پر تادیبی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ قدم اسپین اور مصر کے درمیان کھیلے گئے ایک حالیہ دوستانہ میچ کے دوران تماشائیوں کی جانب سے لگائے گئے اسلامو فوبک اور نسل پرستانہ نعروں کے بعد اٹھایا گیا ہے۔گزشتہ 31 مارچ کو بارسلونا کے آر سی ڈی ایاسٹیڈیم میں اسپین اور مصر کے مابین میچ کے دوران شائقین کے ایک حصے نے “جو نہیں اچھلتا وہ مسلمان ہے”جیسے متنازع اور اشتعال انگیز نعرے لگائے۔فیفا نے جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا “فیفا نے مصر کے خلاف دوستانہ میچ میں پیش آنے والے واقعات پر ہسپانوی ایف اے کے خلاف آج ڈسپلنری کارروائی شروع کر دی ہے۔بارسلونا کے اسٹار فارورڈ اور ہسپانوی قومی ٹیم کے کھلاڑی لامین یمال ، جو خود بھی مسلمان ہیں، نے ان نعروں پر شدید غصے کا اظہار کیا۔ انہوں نے ان حرکات کو “جہالت اور نسل پرستی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی بے عزتی کی بات ہے اور اس طرح کا رویہ ناقابلِ برداشت ہے۔ اسپین کے وزیراعظم نے ان نعروں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں “ناقابلِ قبول” قرار دیا اور کہا کہ ایک “غیر مہذب اقلیت” کو پورے ملک کی ساکھ خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ہسپانوی پولیس نے بھی ان نعروں کو اسلامو فوبک اور غیر ملکیوں سے نفرت” قرار دیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ریئل میڈرڈ کے کوچ الوارو اربیلوا نے بھی اس مسئلے کی سنگینی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسپین ایک روادار ملک ہوتا تو ہمیں ہر ہفتے اسٹیڈیمز میں ایسے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔یاد رہے کہ ہسپانوی فٹ بال گزشتہ کچھ عرصے سے نسل پرستی کے سائے میں ہے۔ اس سے قبل ریئل میڈرڈ کے برازیلی کھلاڑی وینیشیس جونیئر کو بھی بارہا نسلی امتیاز کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ فیفا کی جانب سے اس تازہ کارروائی کو کھیل کے میدانوں سے نفرت انگیزی کے خاتمے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔